کھوج بلاگ

شادی نہ ہوئی ۔۔۔۔ گڑیا گڈے کا کھیل ہوگیا

عامر لیاقت کی تیسری بیوی دانیہ شاہ بھی تنسیخ نکاح کےلیے عدالت پہنچ گئی ہیں۔ صرف چاہ ماہ پہلے جس ڈرامائی انداز میں یہ نکاح سامنے آیا تھا، اسی طرح یہ رشتہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔

بلاشبہ یہ معاملات کسی بھی انسان کی ذاتی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی کی بھی نجی زندگی پر یوں گفتگو کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ لیکن اگر وہ نجی زندگی کسی ایسی شخصیت یا سیلیبریٹی کی ہو، جسے کئی دیگر افراد فالوو کررہے ہوں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ اس شخص سے متاثر ہوں تو نہ صرف ان کی نجی زندگی ان کی اپنی نہیں رہتی بلکہ ان کی اس ذاتی زندگی میں کی گئی غلطیوں پر سرعام گفتگو بھی کی جاتی ہے اور ان غلطیوں اور کوتاہیوں پر تنقید اور سدھار کی صلاح ہر کس و ناکس دے سکتا ہے اور ایسا کرنا معاشرے کے فہمیدہ افراد کے لیے ایک فرض بھی بن جاتا ہے کیونکہ کسی مشہور شخصیت کے افعال ان کے چاہنے والوں کے لیے قابل تقلید ہوتے ہیں، جس کے لامحالہ اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

معاشرتی اقدار کے بناؤ یا بگاڑ اور نئی غلط روایات کے احیا میں بھی ان شخصیات کا طرزِ عمل اور طرز زندگی مہمیز کا کردار ادا کرتا ہے۔

بات شادی کی ہورہی ہے تو عامر لیاقت سے پہلے ایک ایسے فرد کی شادی کی بات کرتے ہیں جس نے معاشرے میں ایک غلط مثال قائم کی اور چونکہ اس شخصیت کے چاہنے والے بلامبالغہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں، اس لیے اس غلط مثال قائم کرنے والی شادی پر تنقید بھی سب سے زیادہ کی گئی۔

جی ہاں! تذکرہ ہے سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا، جنھوں نے ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری شادی کی۔ عمران خان کی ابتدائی دونوں شادیاں ناکام ہوئیں۔ یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں۔ اکثر مشہور شخصیات کی ازدواجی زندگی ایسی ناکامیوں سے دوچار نظر آتی ہے۔ اور اس ناکامی کی بھی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ ہمارا موضوع فی الحال یہ نہیں ہے اس لیے ناکام شادی کی وجوہات کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔ بات کرتے ہیں عمران خان کی تیسری شادی کی، جس نے معاشرے میں ایک غلط مثال قائم کی۔

آخر اس شادی میں ایسا غلط کیا تھا جس کی وجہ سے ہم اس شادی کا تذکرہ یہاں کررہے ہیں؟ اس تیسری شادی کے وقت عمران خان کی عمر 65 سال اور بشریٰ بی بی کی عمر 45 سال تھی۔ لیکن یہ بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ شادی کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا۔ تو پھر اعتراض کس بات پر ہے؟

وجہ اعتراض یہ ہے کہ جب عمران خان اور بشریٰ بی بی کے تعلقات کی خبریں منظر عام پر آئیں تو اس وقت بشریٰ بی بی خاور مانیکا کی منکوحہ تھیں اور ان کی شادی کو 28 سال ہوچکے تھے، یہاں تک کہ وہ نانی اور دادی بھی بن چکی تھیں۔ عمران خان کی جانب سے پہلے ان تعلقات کی تردید کی گئی۔ جب ابتدائی طور پر بشریٰ بی بی کے خاور مانیکا سے طلاق اور عمران خان سے نکاح کی خبریں ’’لیک‘‘ ہوئیں تو اس وقت بھی اس بات کی سختی سے تردید کی گئی اور اس خبر کو مخالف سیاستدانوں کی جانب سے سیاسی حربہ اور کردار کشی سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن جب محسوس ہوا کہ معاملہ ’’سنبھل‘‘ نہیں سکتا تو ایک سادہ سی تقریب میں عمران خان کی نکاح کی ویڈیو بناکر شادی کو ظاہر کردیا گیا۔ جب عوام کی جانب سے اس شادی پر تنقید کی گئی تو عمران خان کے چاہنے والوں نے پرزور موقف پیش کیا کہ شادی کرنا ان کا حق ہے۔ طلاق کے بعد بشریٰ بی بی کسی سے بھی شادی کرنے کےلیے شرعی طور پر آزاد تھیں اور یہ کہ یہ شادی ان کا نجی معاملہ ہے۔

ٹھیک ہے شادی ان کا نجی معاملہ سہی، لیکن جانتے ہیں معاشرے میں اس واقعے سے کیا غلط مثال قائم کی گئی؟ یہ دونوں شخصیات اپنے اپنے حلقے میں ’’اندھے مقلدین‘‘ رکھتے ہیں۔ بشریٰ بی بی ایک ’’پیرنی‘‘ کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔ ایک 65 سالہ شخص اٹھائیس سال سے خوشگوار ازوداجی زندگی گزارنے والی پنتالیس سالہ شادی شدہ عورت سے معاشقہ لڑاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے ورغلاتا یا بہکاتا ہے کہ وہ اپنی 28 سالہ رفاقت کو ختم کرکے اس کے ساتھ شادی کرلیتی ہے۔

جس طرح شادی کرنے کی وجہ ہوتی ہے ایسے ہی شادی ختم کرنے کی بھی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ بشریٰ بی بی نے خاور مانیکا سے اپنی 35 سالہ رفاقت ختم کرنے کو ترجیح دی؟ کیا وہ ایک ظالم شوہر تھا؟ کیا وہ بشریٰ بی بی کے حقوق پورے نہیں کررہا تھا؟ کیا ان کے خانگی معاملات میں جھگڑے روز کا معمول تھے؟ کیا اس کا شوہر بے وفائی کا مرتکب ہورہا تھا اور 28 سالہ رفاقت کے بعد بالآخر بشریٰ بی بی کی برداشت کا مادہ ختم ہوگیا اور اس نے طلاق لینے میں عافیت جانی؟ یا پھر اٹھائیس سال بعد بشریٰ بی بی کا اپنے شوہر سے دل بھر گیا اور عمران خان جیسے 65 سالہ مرد پر اس کا دل آگیا اور اس نے 28 سالہ رشتے کو ٹھوکر مار کر پہلے اپنا گھر توڑا اور عمران خان کا گھر بسا لیا؟

آپ دونوں نے اپنی ’’نجی زندگی‘‘ کا یہ ’’ذاتی قدم‘‘ تو اٹھالیا لیکن دوسروں کےلیے ایک غلط مثال چھوڑ دی کہ اب کوئی بھی مرد کسی کی بیوی کو ورغلا کر یا کوئی بیوی اپنے شوہر کی برسوں کی رفاقت کو دوسرے مرد کی محبت میں ٹھوکر مار اپنا گھر توڑ دے۔ شادی نہ ہوئی گڑیا گڈے کا کھیل ہوگیا جیسے۔

اور یہ سب کچھ آپ نے ایک مشرقی ملک میں کیا، جہاں کی یہ اقدار بالکل نہیں، بلکہ آپ نے ان مغربی ممالک کی پیروی کی ہے جہاں نکاح کو ہی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہم یہاں کسی کے بھی کردار پر انگلی نہیں اٹھا رہے۔ عمران خان کا ماضی کیسا بھی رہا ہو اور وہ کچھ بھی کرتے رہے ہوں، یا بشریٰ بی بی کی ذاتی زندگی بھی جو ہو، ہم اس پر بات نہیں کریں گے۔ ہمارا مطمع نظر صرف وہ اقدار ہیں جن کا مذاق بنا کر غلط روایات کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔

رہا عامر لیاقت کا معاملہ… تو عامر لیاقت نے بھی تین شادیاں کیں۔ پہلی شادی طویل رفاقت کے بعد ختم ہوگئی کیونکہ ایک دوسری عورت زندگی میں آگئی تھی۔ لیکن اسے بھی چھوڑ کر اپنی بیٹی سے بھی کم عمر کی لڑکی، جو خود عامر لیاقت سے عمر میں تین گنا چھوٹی ہے، شادی کرلی۔ اس عمل سے عامر لیاقت نے کون سی قابل فخر مثال قائم کی؟

صرف چار ماہ پہلے جب یہ معاملہ سامنے آیا تو لوگوں کی جانب سے خوب تنقید کی گئی۔ لڑکی کے گھرانے کی مالی حیثیت اور جن قیمتی تحائف اور جائیداد کے گفٹ کی بات سامنے آئی تو لوگوں نے کمنٹس دیئے کہ لڑکی اور اس کے گھرانے نے پیسوں کے لالچ میں یہ شادی کی ہے۔ شہرت کی بھوک بھی ایک وجہ تھی، کیونکہ لڑکی ٹک ٹاک پر اپنے جلوے دکھانے کی عادی تھی۔ اور چار ماہ بعد اچانک لڑکی کو خیال آرہا ہے کہ ’’عامر لیاقت ویسے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں‘‘۔

دانیہ بی بی کیا چار ماہ پہلے تمھارے باپ کی عمر کا یہ شخص تمھیں گلفام نظر آرہا تھا؟ اس کیس میں بھی شخصیت پرستی، لالچ اور شہرت غالب ہے۔ دانیہ شاہ، عامر لیاقت کی اس شخصیت سے متاثر ہوکر (بظاہر) اس کی طرف راغب ہوئی جو عامل آن لائن اور رمضان ٹرانسمیشن کے بعد عامر لیاقت نے بنائی تھی۔ اس ’’بناوٹی‘‘ شخصیت کی وجہ سے ایک وقت تھا جب عامر لیاقت کا شہرہ ہر گھر میں تھا۔ اس شخصیت پرستی کے بعد دانیہ شاہ کو پیسوں کے لالچ اور شہرت کی بھوک نے بھی نکاح سے پہلے کچھ سوچنے کا موقع نہیں دیا۔ (یا پھر ہوسکتا ہے کہ یہ سارا معاملہ ہی بہت سوچا سمجھا ہو)

دانیہ شاہ کا لالچ اور پیسوں کی بھوک تنسیخ نکاح کے مقدمے میں بھی نظر آتی ہے جس میں اس نے گیارہ کروڑ، سونے زیورات، گاڑی اور ایک لاکھ ماہانہ نان نفقہ کا مطالبہ کیا ہے۔عامر لیاقت کے شادیوں کے کیس میں بھی ہمیں معاشرتی اقدار کے خاتمے کی مثال نظر آتی ہے، جب برسوں پرانی شادی اور بچوں کو چھوڑ کر ایک نئی عورت سے معاشقہ لڑایا جائے اور بعد ازاں اسے بھی چھوڑ کر اپنی بیٹی سے بھی کم عمر لڑکی سے شادی رچا لی جائے۔ دوسری غلط مثال دانیہ نے قائم کی کہ پیسوں کے لالچ میں اپنے باپ کی عمر کے آدمی سے شادی کرو اور چند ماہ بعد ناروا سلوک اور نامردی کا الزام لگا کر خلع لے لو۔ جی ہاں! دانیہ نے جو کیس فائل کیا ہے اس میں ایک نکتہ نامردی کا بھی ہے۔ شادی نہ ہوئی گڑیا گڈے کا کھیل ہوگیا جیسے۔

حالیہ دنوں ہی خبروں میں مشہور ہونے والی دعا زہرہ اور نمرہ کاظمی کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہاں بھی معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو تباہ کیا جارہا ہے۔ بے شک یہ دونوں لڑکیاں کوئی سیلیبریٹی نہیں لیکن میڈیا پر ان کا معاملہ جس قدر ہائی لائٹ ہوا، اس نے بھی معاشرے میں غلط مثال قائم کی ہے۔ ایک تو اب اگر کوئی لڑکی واقعی اغوا ہوجاتی ہے تو لوگوں کا پہلا خیال یہی ہوگا کہ وہ بھی گھر سے بھاگ گئی ہے۔ دوسرے کم عمری اور پسند کی شادی کی غلط ریت چل نکلے گی۔ کچے ذہن کے نوعمر لڑکے لڑکیاں پسند کی شادی کے چکر میں اپنی زندگیاں تباہ کربیٹھیں گے۔ والدین کی مخالفت کے بعد گھر سے بھاگنے میں ذرا تامل نہیں برتیں گے، کیونکہ انھیں دعا اور نمرہ کے کیس سے یہی مثال ملی ہے کہ شادی کے بعد کوئی انھیں الگ نہیں کرسکتا۔ لیکن جب زندگی کی اصل حقیقت ان پر بے نقاب ہوگی اور حالات کا جبر ستائے گا تو کیا معلوم ایک دو سال بعد ہی اپنے دامن پر داغ لیے یہ جوڑے الگ ہوجائیں۔ واقعی شادی نہ ہوئی، گڑیا گڈے کا کھیل ہوگیا جیسے۔

بشکریہ:رضوان احمد صدیقی ایکسپریس نیوز

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.