کھوج بلاگ

بھنڈی سے کپڑوں کی تیاری؟

خشک سالی سے اس وقت تک سب سے زیادہ جنوبی پنجاب کا کپاس بیلٹ متاثر ہورہا ہے۔ ملک میں پانی کی کمی کے باعث کپاس کے زیر کاشت رقبے میں ہر سال کمی ہورہی ہے

ملک اس وقت خشک سالی اور قحط کے بڑے خطرے سے دوچار ہے۔ بارشیں نے ہونے کے باعث تھر اور چولستان کے صحراؤں میں زندگی ایک ایک بوند پانی کو ترس رہی ہے۔ دیگر حصوں میں بھی درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو رہا ہے۔

قوم پینے کے پانی کو ترس رہی ہے۔ پانی نہ ہونے کے باعث فصلوں کی کاشت بھی تاخیر کا شکار ہے۔ اس خشک سالی سے اس وقت تک سب سے زیادہ جنوبی پنجاب کا کپاس بیلٹ متاثر ہورہا ہے۔ ملک میں پانی کی کمی کے باعث کپاس کے زیر کاشت رقبے میں ہر سال کمی ہورہی ہے جبکہ تحقیق نہ ہونے کے باعث مطلوبہ مقدار میں کپاس حاصل نہیں کی جاسکتی اور ملک میں دیگر ممالک کی نسبت فی ایکڑ پیداوار بھی 50 فیصد کم ہے۔ کپاس کی فصل کےلیے زیرِ کاشت رقبہ 29 لاکھ ایکڑ سے کم ہوکر 25 لاکھ ایکڑ رہ گیا ہے۔ جو ملک پانچ برس قبل تک 15 لاکھ بیلز تیار کرتا تھا، اب محض 6 لاکھ بیلز تک گرگیا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے ایک بار پھر ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ لیکن اس دوران اس صنعت سے وابستہ صنعتکاروں کو خام مال کی شدید قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیکسٹائل کےلیے کپاس، اون، ریشم اور پٹ سن سے قدرتی ریشہ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ نائیلون، وسکوز اور پولیسٹر سے مصنوعی ریشہ تیار کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسا زرعی ملک قدرتی ریشے کےلیے بھی دیگر ممالک پر انحصار کرتا ہے، جبکہ دیگر قدرتی ریشوں کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ اسی طرح آلودگی کا شکار ملک مصنوعی ریشوں پر انحصار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اقدامات تو دیکھنے میں نہیں آرہے مگر تعلیمی اداروں میں ماہرین خاصے فکرمند ہیں۔

سوال یہ ہے پاکستان میں کپاس کا متبادل کیا ہوسکتا ہے؟ خشک سالی اور تیزی سے کم ہوتے زیر کاشت رقبے کا حل تلاش کیسے کرسکتے ہیں؟ پاکستان میں ایسی کون سی فصلیں ہیں، جن کے ریشے کو دھاگے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اس حوالے سے گزشتہ دنوں قومی اخبارات کے تعلیمی صفحات پر شائع شدہ خبر نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے مختلف فصلوں کے ریشوں کو دھاگا بنانے کےلیے حکومت کو مدد کی آفر کی ہے۔

خبر کے مطابق یونیورسٹی کے محققین فصلوں کی باقیات پر تحقیق کرکے ان کے ریشوں کو قابل استعمال بنارہے ہیں۔ یونیورسٹی کے مطابق سب سے پہلے کیلے کے تنوں پر تحقیق کی گئی، اس کے بعد بھنگ کے ذریعے جینز کی تیاری کا تجربہ اور اب کی بار بھنڈی کے تنوں کو استعمال کرکے ان کے ریشے کو روئی سے ملا کر دھاگہ تیار کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

بھنڈی کی فالتو اور سخت باقیات کو دھاگہ بنانے کے عمل پر تحقیق کا دعویٰ میرے لیے حیران کن تھا۔ گو کہ پاکستان میں بھنڈی کا ریشہ باآسانی دستیاب، وافر مقدار میں موجود اور کم قیمت ہے مگر اس کے باوجود سخت ہونے کے باعث اسے دھاگے یا کپڑے کی شکل میں تبدیل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں اس کی جانب کم توجہ دی جاتی ہے، لیکن یو ای ٹی کے محققین نے ایسا کیا کمال کردیا کہ وہ ملک میں ایک انقلاب کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ اس حوالے سے میں نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے محققین سے رابطہ کیا، جنہوں نے اپنی تحقیق سے متعلق تفصیلات بتائیں۔ اس کے مطابق ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں بھنڈی کے سخت تنوں کو جدید لیبارٹری میں کیمیائی عمل کے بغیر نرم بنایا گیا۔ اس کے بعد ان تنوں کو ریشے میں تبدیل کیا گیا۔ جس کے بعد تیار شدہ ریشے سے دھاگہ بنایا گیا اور اس دھاگے کی طاقت کو جدید طریقوں کے ساتھ آزمایا گیا۔ بعد ازاں محققین نے اسی تیار شدہ دھاگے کی مدد سے کپڑا تیار کیا۔ محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ تحقیق اور تجربہ پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ایک انقلاب ثابت ہوگا۔ بھنڈی کی کاشت کے دوران پانی کا کم استعمال ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کپاس کی کاشت کے علاقوں میں بھی کسان بھنڈی کی کاشت کرتے ہیں۔

بھنڈی کے ریشے سے کپڑا بنانے کی یہ تحقیق یقیناً ٹیکسٹائل کی صنعت میں انقلاب ثابت ہوگی، کیونکہ پاکستان دنیا میں بھنڈی پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ محکمہ زراعت کے اعداد وشمار کے مطابق ملک کے 45 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر بھنڈی کاشت کی جاتی ہے، جس کی سالانہ پیداوار 180 ملین کلو گرام سے زیادہ ہوتی ہے۔ کسان بھنڈی کی فصل کو مارکیٹ میں بیچ دیتا ہے جبکہ اسی فصل کے 335 ملین کلو گرام تنے ضائع ہوجاتے ہیں، جنہیں خشک کرکے کسان ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اگر بھنڈی کے تنوں سے دھاگہ بنانے کےلیے ریشہ حاصل کیا جائے تو سالانہ 54 ہزار 877 ملین روپے کمائے جاسکتے ہیں، جس سے نہ صرف کسانوں کو فصل کی قیمت ملے گی بلکہ فصلوں کی باقیات سے بھی کمانے کے مواقع میسر آئیں گے۔

اگر اس تحقیق کے تناظر میں بھنڈی کی باقیات کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کیا جائے تو اس کا فائدہ محض کسانوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نہیں ہوگا بلکہ یہ تحقیق ملک میں ماحولیات کے تحفظ کےلیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ سردیوں میں تپش کا احساس دینے والے خش وخاشاک، مخصوص پودوں کے تنے موسم سرما میں گرمی تو دے دیتے ہیں مگر یہی چند منٹوں کی گرمی ہزاروں شہریوں اور نسلوں کےلیے موت کا پیغام بن رہی ہے۔ پاکستان جو کہ ہر سال اسموگ جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے، جہاں 22 فیصد اموات یعنی سوا لاکھ شہری فضائی آلودگی سے اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس آلودگی کی بڑی وجہ جہاں فیشن انڈسٹری کو قرار دیا جارہا ہے، وہیں فصلوں کی باقیات کا جلا دینا بھی ملک میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ ہے۔

قصہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ داستان مزید اندوہناک اور دردناک ہورہی ہے۔ اس وقت ساری دنیا پلاسٹک ویسٹ اور فضائی آلودگی کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کے مطابق ایک شرٹ کی تیاری میں 20 ہزار لیٹر تک پانی استعمال ہوتا ہے، اتنی مقدار میں پانی ایک انسان 28 سال تک پینے کےلیے استعمال کرسکتا ہے۔ اسی طرح محض فیشن انڈسٹری میں سالانہ تقریباً 93 ارب کیوبک میٹر پانی استعمال ہوتا ہے، جو کہ 50 لاکھ لوگوں کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کےلیے کافی ہے۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ نئے پلاسٹک سے تیار ہونے والی ایک پولیسٹر کی شرٹ کی تیاری میں گاڑیوں سے زیادہ کاربن کا اخراج ہوتا ہے جبکہ مصنوعات کی ترسیل میں اور کپڑوں کو رنگنے سے مزید آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ ہر سال محض برطانیہ میں کم از کم 10 لاکھ ٹن کپڑے پھینکے جاتے ہیں اور ان میں سے صرف 20 فیصد ہی ڈمپنگ سائٹس تک پہنچتا ہے۔

اگر حضرت انسان نے پرانے طریقوں اور ذرائع کے ساتھ ہی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ترقی جاری رکھی تو خطرہ ہے کہ زمین ابن آدم کی ترقی کا بوجھ زیادہ دیر تک برداشت نہ کرسکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فیشن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری ترقی کے ساتھ ساتھ نئے اور قابل تجدید ذرائع تلاش کریں تاکہ ماحول محفوظ بنایا جاسکے اور دنیا میں کم ہوتے پانی کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.