کھوج بلاگ

کوہِ سلیمان کے جنگلات قیامت خیز شعلوں کی لپیٹ میں

کوہِ سلیمان مقامی پشتون قبائل میں ‘قیسا غر’ کے نام سے معروف ہے۔ یہ دراصل کوہِ ہندوکش کے جنوب سے شروع ہونے والا وہ طویل پہاڑی سلسلہ ہے جو خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقوں وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے نوزائیدہ ضلع شیرانی، ژوب اور موسٰی خیل سے ہوتا ہوا جیکب آباد تک جاتا ہے۔ وہاں سے یہ ایران کے مشرق میں واقع سطح مرتفع پر ختم ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف اس مشہور پہاڑی سلسلے کی کچھ جزوی کڑیاں افغانستان کے علاقوں پکتیا، زابل اور قندہار تک بھی جاتی ہیں۔

قدرتی حُسن سے مالا مال اس شاہکار پہاڑی سلسلے کا جو علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان، شیرانی اور ژوب میں پڑتا ہے وہاں نہ صرف چلغوزے کے قیمتی درختوں کے سب سے بڑے جنگلات موجود ہیں بلکہ یہ سلیمانی مارخور، ہرن، تیندوے اور کئی دیگر نایاب ہوتے جانوروں کا مسکن بھی ہے۔

’لگ بھگ 64 ہزار 247 ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ وسیع جنگل ہر سال 705 امریکی ٹن یعنی تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار کلوگرام چلغوزے پیدا کرتا ہے‘۔ان جنگلات میں وقتاً فوقتاً مارخور (جسے سلیمانی مارخور کہا جاتا ہے) اور تیندوے دیکھے گئے ہیں جن کی نسل اب تقریباً ناپید ہوتی جارہی ہے۔ تخت سلیمان کہلائی جانے والی اس پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی بھی یہیں پر واقع ہے جس کی بلندی 11 ہزار 440 فٹ بتائی جاتی ہے۔ ناجانے قدرت کے اس شاہکار پہاڑ کو کس کی نظر لگ گئی کہ اس کے دامن میں 15 دنوں سے لگی ہوئی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ سوشل میڈیا پر موجود تصاویر بتارہی ہیں کہ یہاں پر قدرتی حُسن خاکستر ہوگیا ہے اور زیتون کے قیمتی جنگلات کو شاید اب پھر سے لہلہانے کا موقع نہ مل سکے۔دل کو بھانے والے یہ خوبصورت جنگلات جہاں ایک طرف ماحول کو صاف رکھنے اور ایکو سسٹم کے لیے مددگار ثابت ہورہے ہیں تو دوسری طرف اس سے ہزاروں افراد کا معاش بھی وابستہ ہے۔

آگ لگنے کی وجہ

درازندہ میں مقیم لکھاری اطلس خان شیرانی کے مطابق ’چلغوزے کے ان جنگلات میں پہلی دفعہ آگ دہانہ سر کے قریب رواں مہینے کی 8 تاریخ کو دیکھی گئی تھی جو آہستہ آہستہ شیرانی کے سرحدی علاقے زمری (موسٰی خیل) کے پہاڑوں تک پہنچنے کے بعد واپس تور غر اور بابوزی غر کی طرف پلٹ گئی۔ یہ آگ بجھی نہیں تھی کہ ایک دوسری آگ ‘قمرہ’ پہاڑی پر نمودار ہوئی جسے مقامی دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجھا دیا۔ تیسری آگ زیہی کی پہاڑی میں لگی جو بعد میں شاہل اور ترکئی تک پھیل کر اس وقت 50 کلومیٹر کے قریب جنگلی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے‘۔اگرچہ اطلس خان شیرانی نے آگ لگنے کی بنیادی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا تاہم اس بارے میں متضاد دعوے سننے کو مل رہے ہیں۔ صوبائی محکمہ جنگلات کے سیکریٹری دوستین جمالدینی کے مطابق ’آگ لگنے کی بنیادی وجہ آسمانی بجلی تھی جبکہ ضلع شیرانی کے فاریسٹ آفیسر عتیق الرحمن کا دعویٰ ہے کہ بظاہر یہ آگ مقامی لوگوں نے اپنے باہمی تنازعات کے باعث لگائی ہے‘۔

آگ کی شدت اور بلند ہوتے شعلوں کے بارے میں جب بھی وہاں کے مقامی لوگوں سے سوال کیا جاتا ہے تو ان کی زبان سے ابتدائی الفاظ ‘الامان الحفیظ’ ادا ہوتے ہیں۔ ان عینی شاہدوں میں 60، 70 سال کی عمر کے افراد بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں زندگی میں پہلی مرتبہ ایسی ہولناک آگ دیکھنے کو ملی ہے۔ یہ لوگ آگ کی شدت کی بنیادی وجہ چلغوزے کے درخت کی منفرد خاصیت یعنی تیل نما چکناہٹ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے سالہا سال سے پڑے خشک درختوں کی بہتات بھی آگ کو اپنی طرف دعوت دے رہی ہے جبکہ وہاں پر چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو بھڑکا رہی ہیں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کوہِ سلیمان کے ان قیمتی جنگلات میں بپا ہونے والے قیامت خیز حادثے کو بڑی آسانی سے ٹالا جاسکتا تھا اگر جنگلات کا متعلقہ ادارہ یا صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بروقت اپنے اپنے حصے کا کام کرتی۔ لیکن بدقسمتی سے قدرتی آفات سے نمٹنے کا مذکورہ ادارہ اس وقت متحرک ہوا جب پلوں کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔

یہ بات اب ٹھوس حقیقت بن چکی ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مہلک خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ان خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے موجودہ جنگلات کا تحفظ اور مزید درخت لگانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی یہ در آئی ہے کہ نہ تو ریاستی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں ہورہی ہیں اور نہ ہی عوام میں ماحول کو شفاف بنانے کے لیے شعور و آگہی پھیلانے کی زحمت کی جاتی ہے۔

محمد حسین ہنرمل

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.