کھوج بلاگ

ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کا

ہمارے ملک میں ہر موسم کے پھل موجود ہیں۔ اس وقت موسم گرما اپنے جوبن پر ہے اور اس موسم کا ایک بہت خاص پھل آم ہے، جس کا بڑے بوڑھے، بچے، جوان سب بے صبری سے انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ اب یہ انتظار ختم ہوچکا ہے اور آم اب ٹھیلوں، دکانوں اور بڑے بڑے مالز کے شیلف پر اپنی دلکشی، خوبصورتی اور رعنائی کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں نظر آرہا ہے۔

یہ گودے دار اور رسیلا پھل تاریخی طور پر پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ سخت جھلسا دینے والے موسم میں آم آپ کو ایک الگ سی خوشی اور اطمینان مہیا کرتے ہیں۔ ایک اچھا آم آپ کا موڈ تبدیل کرسکتا ہے اور کئی پریشانیوں کو دُور کرسکتا ہے۔ خاص طور پر آپ کو نرم کرکے یعنی گھلا کرکے کھانے کا لطف اور خوشی صرف آم سے محبت کرنے والا ہی سمجھا سکتا ہے۔

آم کا تعلق ہماری روایات اور تہذیب سے بھی ہے جو ادیبوں، شاعروں سیاستدانوں اور امرا سب میں یکساں مقبول ہے۔

شاہین اقبال اثر لکھتے ہیں

ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کا

آ رہا ہے پھر سے موسم آم کا

لذت، غذائیت اور افادیت سے مالامال آم پاکستان، ہندوستان اور فلپائن کا قومی پھل ہے جبکہ اس کا درخت بنگلہ دیش کا قومی درخت ہے۔ آم کا آبائی وطن ہندوستان ہے اور لوگ اسے 5 ہزار سال سے زیادہ عرصے سے کاشت کر رہے ہیں۔ یہ مغلوں کا بھی پسندیدہ پھل تھا۔ بابر، اورنگ زیب، ہمایوں سب اس کے قدردان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آم کے پھیلاؤ میں بھی مغلوں نے بڑا کردار ادا کیا تھا۔

اکبر بادشاہ نے ایک لاکھ آم کے درختوں کا باغ ‘لاکھ باغ’ بہار کے دربھنگہ کے قریب تعمیر کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ شاہجہان کو آموں کا اتنا زیادہ جنون تھا کہ اس نے اپنے ہی بیٹے کو جو اس وقت دکن کے اہم عہدے پر تھا سزا دی اور گھر میں نظر بند کردیا کیونکہ اسنے تمام آم خود لے لینے کی جسارت کی تھی۔ اسی طرح جہانگیر نے دلی سے 7 کوس جنوب کی طرف مہرولی نامی گاؤں میں جسے ماضی میں جھرنا قطب گاؤں کہا جاتا تھا وہاں اور لاہور میں آم کا باغ لگایا تھا۔ ملکہ نورجہاں بھی آم اور اس کے مشروب کو پسند کرتی تھیں۔

آئین اکبری اور تزک جہانگیری وہ 2 کتابیں ہیں جن میں ناصرف آموں کی اقسام کا تفصیلی بیان موجود ہے، بلکہ ہر ایک کو معیار، شکل اور خوشبو کے لحاظ سے موضوع بنایا گیا ہے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہر بادشاہ ان سے کس طرح محبت کرتا تھا۔ غرض آم ہر دور میں حکمران طبقے کا پسندیدہ پھل رہا ہے۔آم سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ بھی رہا ہے، آم ڈپلومیسی کی اصطلاح ہمارے خطے میں مشہور ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ماضی والی بات نہیں رہی مگر اس کی مٹھاس آج بھی وہی ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں حکمرانوں کو آم بھیجے جاتے ہیں جو باہمی تعلقات اور روابط بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سب سے پہلے

آم مذہبی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ بدھ مت کے ادب میں بھی اس کا ذکر ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھگوان بدھ نے آم کے درخت کے نیچے مراقبہ کیا تھا اور اس وجہ سے اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ آم کے درخت کو جین مت میں بھی مذہبی اہمیت حاصل ہے کیونکہ جین دیوی امبیکا کو روایتی طور پر آم کے درخت کے نیچے بیٹھنے والی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آج بھی آم کے پتے کو پرہیزگار اور نیک سمجھا جاتا ہے اور وہ تہواروں اور تقریبات کے دوران گھروں کے مرکزی دروازے کی زینت بنتے ہیں۔

سنسکرت کے مشہور شاعر کالی داس نے آم کی بہت تعریفیں کی ہیں۔ امیر خسرو کو پھلوں میں سب سے زیادہ آم پسند تھے، وہ آم کے دیوانے تھے۔ فارسی شاعری میں امیر خسرو نےآم کو ‘فخر گلشن’ کہا ہے۔

غالب بھی آم کے شوقین تھے، وہ کہتے تھے کہ ‘آم میٹھے اور بہت ہونے چاہئیں’۔ غالب کی آب بیتی میں ہے کہ اپنے دوست شیخ محسن الدین مرحوم سے کہا ‘بے تکلف عرض کرتا ہوں۔ اتنے آم کھاتا تھا کہ پیٹ بھر جاتا تھا اور دَم پیٹ میں نہ سماتا تھا، اب بھی اسی وقت کھاتا ہوں مگر دس بارہ۔ اگر پیوندی آم بڑے ہوئے تو پانچ سات’۔

مرزا غالب کے دوست ان کی آم سے محبت جانتے تھے۔ ایک مرتبہ گلی کے کونے پر بیٹھے تھے ایسے میں سامنے سے چند گدھے گزرے۔ وہیں آم کی گٹھلیوں اور چھلکوں کو دیکھ کر ایک گدھا رُکا اور گٹھلیوں اور چھلکوں کو سونگھ کر آگے بڑھ گیا۔ غالب کے دوست نے ازراہِ تفنن کہا مرزا صاحب آپ نے دیکھا کہ ‘گدھے بھی آم نہیں کھاتے’۔ غالب مسکرائے اور بولے ‘ہاں گدھے آم نہیں کھاتے’۔

اقبال کے خطوط میں بھی آموں کا ذکر ملتا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم کی تحقیق کا ذکر افسانہ نگار انتظار حسین نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ‘مولانا اکبر نے مجھے لنگڑا آم بھیجا تھا، میں نے پارسل کی رسید میں اکبر الہٰ آبادی کا شعر لکھا کہ

اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک آیا

یہ ہماری وہ خوشبو ہے جو پوری دنیا محسوس کرتی ہے، اس کی بھینی بھینی خوشبو برِصغیر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہے، اور جو ایک بار کھاتا ہے وہ بار بار کھاتا ہے۔ شاید کم ہی لوگ ہوں جو اس پھل کو پسند نہ کرتے ہوں۔

آم کی یہ شہرت ایسے ہی نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کا منفرد کرشمہ ہے کہ اس کی سیکڑوں اقسام ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا اپنا مخصوص ذائقہ، شکل، حجم اور رنگ ہے۔ ایسے ایسے نام ہیں کہ ہم میں سے بہت سوں کی اکثریت نے کبھی سنے بھی نہ ہوں گے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستانی آم تاثیر، رنگ اور ذائقے کے اعتبار سے سب سے منفرد اور خاص ہیں۔ ہمارے یہاں مختلف اقسام کے آم پائے جاتے ہیں جن میں چونسا، سندھڑی، لنگڑا، الماس اور دسہری شامل ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ آم میں اب تک 20 سے زائد وٹامنز اور معدنیات سامنے آچکے ہیں۔

آم کے بے شمار فوائد جان کر اس پھل سے آپ کی محبت کئی گنا بڑھ جائے گی کیونکہ یہ ایک ایسا پھل ہے جس کے چھلکے بھی حیران کن فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں چربی بننے سے روکتا ہے، اس میں وٹامن اے، ای، کے اور سی موجود ہوتے ہیں۔ قدرت کا یہ خوبصورت پھل حفاظتی اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور ہے اور کینسر سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کی یہ خصوصیات ہمارے جسم کو چھاتی کے کینسر، بڑی آنت کے کینسر، پروسٹیٹ کینسر اور لیوکیمیا سے بچاتی ہیں۔ یہ کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

آم میں وٹامن سی، فائبر اور پیکٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ اس وجہ سے بھی ایک بہترین پھل ہے کہ یہ فائبر اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ دو غذائی اجزا فشار خون کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں، مزید یہ کہ آم سے کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ اس منفرد پھل میں وٹامن اے اور سی دونوں کی مناسب مقدار ہوتی ہے۔ وٹامن سی اہم اینٹی آکسیڈینٹس میں سے ایک ہے جو ماحولیاتی نقصان کے خلاف حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔ وٹامن سی کی کمی زخم کے بھرنے کو متاثر کرسکتی ہے اور باریک لکیروں اور جھریوں کو بڑھا سکتی ہے۔ یہ جلد کو صاف اور چمک دار بناتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ بے عیب جلد رکھنی ہے تو آم کھائیں۔

آم اور موسم گرما کا گویا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لیکن ایک سے زائد وجوہ کی بنا پر آم کھاتے ہی آپ کے جسم کا اندرونی نظام خاصا سرد ہوجاتا ہے جو آپ کو گرمی کی شدت اور لُو لگنے کے خطرے سے محفوظ رکھتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کا امکان انتہائی کم ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پھل میں فولیٹ، وٹامن کے، وٹامن ای اور متعدد وٹامنز ہوتے ہیں جس وجہ سے یہ ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین پھل ہے۔

اسی طرح آم میں ایک منفرد اینٹی آکسیڈینٹ مینگیفرین بھی ہے اور ان غذائی اجزا کی وجہ سے یہ صحت مند دل کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ اس میں وٹامن اے کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے اور دو اینٹی آکسیڈینٹ لیوٹین اور زیکسینتھین موجود ہوتے ہیں جو بینائی کے لیے مفید ہیں اور تیز بصارت کا باعث بھی بنتے ہیں۔

آم میں وٹامن بی 6 بھی ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیکل ہے جو نیند میں مدد کرتا ہے اور ہمیں اچھی نیند آتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ ہمارے موڈ کو ٹھیک اور منظم بھی کرتا ہے، اسی طرح آم جسم کو پُرسکون نیند کے لیے تیار کرتا اور نیند کے معیار کو بہتر بھی بناتا ہے۔

فوائد تو اس کے اور بھی بہت ہیں اور ابھی آم کے فوائد کا مکمل راز کھل بھی نہیں سکا ہے۔ اس حوالے سے تحقیقات ہورہی ہے اور ہوتی رہیں گی۔ بھارت کے ملیح آباد میں ایک حاجی کلیم اللہ خان ہیں، ان کی عمر 80 سال سے زائد ہے۔ وہ آم پر نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں، اس لیے انہیں ‘آم آدمی’ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے آم کے ایک درخت پر انوکھا تجربہ کیا اور بیک وقت ایک ہی درخت پر 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ مطلب ذرا سوچیں ایک درخت اور 300 اقسام کے آم یقین نہیں آرہا ہوگا ناں؟ ہمیں بھی نہیں آیا تھا اور صرف یہی نہیں وہ ایک درخت پر مختلف آم اگانے کے ساتھ ان کے مختلف نام رکھتے ہیں اور ہر ایک کی خصوصیت اور پہچان بھی بتاتے ہیں۔

آم کی سیکڑوں اقسام میں سے تجارتی پیمانے پر صرف 25 سے 30 اقسام کاشت کی جا رہی ہے۔ ان اقسام میں چونسہ، سندھڑی، لنگڑا، دوسہری، انور رٹول، سرولی، ثمر بہشت، طوطا پری، فجری، نیلم، الفانسو، الماس، سنوال، سورکھا، گلاب خاص، سنیرا اور دیسی شامل ہیں۔

پاکستانی آم کی مشرق وسطیٰ، یورپ اور آسٹریلیا کی منڈیوں میں بڑی مانگ ہے۔ مسقط، بحرین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ناروے، ہالینڈ، بیلجیئم، سنگاپور، جاپان، اردن، موریشیس اور کویت میں ہمارے آم جنون کی حد تک پسند کیے جاتے ہیں۔ امریکا میں بھی پاکستانی آموں کی مانگ موجود ہے لیکن وہاں کے لیے کچھ قانونی اور سیاسی مسائل موجود رہتے ہیں۔ چین کے لوگ اپنی میٹھی دوستی کے ساتھ پاکستانی میٹھے آم بہت پسند کرتے ہیں۔

چلیں اب تیاری پکڑتے ہیں آم کھانے اور نت نئی اقسام کے آم دیکھنے کی کیونکہ آم کا سیزن شروع ہوچکا ہے اور ہوٹلوں اور گھروں میں آم پارٹیاں شروع ہونے والی ہیں۔ بس آم کھائیے اور گٹھلیاں گنے بغیر کھائیے۔

ڈاکٹر فریحہ عامر

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.