پاکستان

آم کی پیداوار میں تاریخ ساز کمی کیوں ؟ تمام تر وجوہات سامنے آگئیں

رواں سال آم کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 30 سے 35 فیصد کمی آئی' ہر سال کی طرح اس مرتبہ فروٹ منڈی میں آم کی اعلی اقسام سفید چونسا اور انور آٹول زیادہ تعداد میں نہیں آ رہا

لاہور(کھوج نیوز) آم کی پیداوار میں تاریخ ساز کمی کیوں ہوئی؟ اس حوالے سے تمام تر وجوہات سامنے آنے کے بعد کاروباری حضرات سمیت خریدار بھی حیران و پریشان رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پھلوں کا بادشاہ آم ان پھلوں میں سے ہے کہ جو اپنے سیزن میں ہر جگہ بآسانی دستیاب ہوتا ہے اور ہر خاص و عام اسے شوق سے کھاتا ہے۔ پاکستان میں مختلف اقسام کے آموں کی پیداوار ہوتی ہے اور یہاں کے لذیذ آم دنیا بھر میں مشہور ہیں اور تقریبا دنیا کے ہر کونے میں یہ بھیجے جاتے ہیں جنہیں انتہائی پسند کیا جاتا ہے۔ موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی آم کا سیزن شروع ہے تاہم اس مرتبہ آم پہلے جیسے معیار کے نہیں اور اس کی تعداد بھی اس مرتبہ کم ہے اور ریٹ گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہیں۔

پنجاب کے شہر چشتیاں کی فروٹ منڈی میں آم کے کاروبار میں منسلک اسامہ رامے نے کہا کہ رواں سال آم کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 30 سے 35 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ فروٹ منڈی میں آم کی اعلی اقسام سفید چونسا اور انور آٹول زیادہ تعداد میں نہیں آ رہا اس لیے ان کے ریٹ زیادہ ہیں، 9 کلو والی پیٹی 1700 سے 2 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ دیسی اور لنگڑا آم مارکیٹ میں نسبتا کم ریٹ یعنی 800 روپے فی 10 کلو سے میں دستیاب ہے۔

ملتان میں آم کے باغات کے مالک عابد محمود نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی آم کے باغات کے مالکان نے بھرپور محنت کی تھی تاہم گرمی کے آغاز میں تاخیر کے باعث اس مرتبہ جو پھل درختوں پر اگا تھا وہ گرگیا جس سے فصل ضائع ہو گئی ہے اور آم کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت کم ہوئی اس وجہ سے مارکیٹ میں آم گزشتہ سالوں کی نسبت کم دستیاب ہے۔ آم کی مختلف اقسام کے ذائقے کے حوالے سے عابد محمود نے کہا کہ جتنی زیادہ گرمی پڑتی ہے آم اتنا لذیذ ہوتا ہے، فصل کے تیار ہونے سے قبل چونکہ زیادہ گرمی نہیں پڑی تھی اور موسم ٹھنڈا رہا تھا اس لیے آم کا وہ ذائقہ نہیں جیسا پہلے ہوا کرتا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button