پاکستان

اسکول چلیں گے نا کاروبار، حکومت نےٹیکس نادہندگان کےخلاف جامع پلان بنالیا

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس نا دہندگان کوحکومت کی طرف سے خبردار کرتاہوں کہ ملکی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹائیں کیونکہ حکومت ٹیکس نہیں لے گی تو اسکول چلیں گے نا کاروباری ادارے چل پائیں گے

کمالیہ(کھوج نیوز)وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس نا دہندگان کوحکومت کی طرف سے خبردار کرتاہوں کہ ملکی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹائیں کیونکہ حکومت ٹیکس نہیں لے گی تو اسکول چلیں گے نا کاروباری ادارے چل پائیں گے اسی لئے حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لئے جامع پلان بنالیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہم پر تنخواہ دار طبقےکو ریلیف نہ دینے پر تنقید کی جارہی ہے۔ حکومتی اخراجات میں کمی نہ ہونے کی بات درست ہے، ہمیں حکومتی اخراجات میں کمی لانا ہوگی۔ جب ادارے اربوں روپے کے نقصان کررہےہیں تو کیسے ریلیف دیں؟ جن وزارتوں سے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے وہ بند کردینی چاہئیں۔ ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو سب کچھ نجی شعبے کو دینا ہوگا۔

کمالیہ میں میڈیا سےگفتگوکرتےہوئےان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےمیری چیئرمین شپ میں اعلیٰ سطحی وزارتی کمیٹی قائم کی ہے۔ آئندہ ڈیڑھ ماہ میں تجاویز وزیراعظم کےسامنےپیش کریں گے۔ جو شعبےٹیکس  نہیں دے رہے ان کو سسٹم میں لا رہےہیں۔ وزیراعظم کو تجاویزمیں بتائیں گےکہ کن وزارتوں کوبند کرنا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ میری کاروباری شخصیات سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملک ٹیکس سے چلائے جاتے ہیں، ٹیکس سے ہی سارا نظام چلتا ہے، جی ڈی پی کا انحصار ٹیکس پر ہے، جولائی سے ان پر ٹیکس لگے گا۔ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ جو ریونیو آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ خیرات سے ادارے چل سکتے ہیں ملک نہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، ایف بی آر ڈیجیٹلائزیشن سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا۔ بجٹ تقریر میں کچھ اصول اور ضوابط کی بات کی تھی، جو شعبے ٹیکس نہیں دے رہے تھے انہیں نظام میں لارہے ہیں۔ 32ہزار سے زائد ریٹیلرز ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نظام کو متوازن کرکے ہی ملک چلایا جاسکتا ہے۔ ٹیکس چھوٹ کو بتدریج ختم کرنا ہے۔ خیرات سے سکول، یونیورسٹیاں اور اسپتال چلتے ہیں، ملک صرف ٹیکس سے چلتے ہیں۔ دیگرشعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔ ہم انفورسمنٹ اور کمپلائنس کی طرف جارہے ہیں۔ قوانین موجود ہیں لیکن ہم اسے نافذ نہیں کر پارہے۔ اس ملک کو ریلیف چاہئے ہم اس کو دیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت اور آئی ٹی کا آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اداروں کا خسارہ کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ ملک نے آگے جانا ہے تو سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا ہوگا۔ چین میں پیسے لینے نہیں، ٹیکنالوجی لینے گئے تھے۔ چین کا دورہ پیسوں کے لیے نہیں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے زراعت کے لیے 60 ارب روپے سے زائد پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کسانوں کے لیے بلا سود قرضوں کی بات کی ہے۔ جولائی سے ریٹیلرز ٹیکس نیٹ میں آجائیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ ریاستی ملکیتی ادارے ہیں، اس کا خسارہ کون برداشت کررہے ہیں، آپ لوگ برداشت رہے ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری ملکیتی اداروں کو چلنے دیا جائے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے 622 ارب روپے کے واجبات حکومت پاکستان کو منتقل ہوئے ہیں، اس کا قصور وار کون ہے، لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے تنخواہ دار طبقے کو اور مینوفیکچرنگ کو ریلیف نہیں دیا، کہاں سے ریلیف دیں، اگر یہ 650 ارب روپے بچتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کی بات ہے، اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ جولائی، اگست میں ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں بھی نجی شعبے کو دے دیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button