پاکستان

امریکا اور یورپی ممالک نے آنکھیں پھیر لیں، پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات بڑھانے کی وجہ سامنے آگئی

امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے اہمیت نہ ملنے پر پاکستان وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ روابط بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے: مبصرین

اسلام آباد(کھو ج نیوز) امریکا اور یورپی ممالک نے آنکھیں پھیر لیں، پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات بڑھانے کی وجہ سامنے آنے کے بعد سب حیران رہ گئے ۔

تفصیلات کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ جب کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے اہمیت نہ ملنے پر پاکستان وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ روابط بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے جسے ‘ویژن وسطی ایشیا’ پالیسی کا نام دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اسلام آباد وسطی ایشیا کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں روابط مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔ کاسا 1000 توانائی منصوبے کو ویژن وسطی ایشیا کا ایک اہم جزو قرار دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیا کبھی بھی غیر اہم نہیں تھا۔ لیکن حالیہ عرصے میں اس خطے کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی سفارت کاری کا پہلا محور اب معاشی اہداف کا حصول ہے اور اسی بنا پر وسطی ایشیا اسلام آباد کے سفارتی نقشے پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ معاشی مفادات وابستہ ہیں جو توانائی کے حصول کی صورت میں ہیں جن میں ‘ٹاپی’ اور ‘کاسا 1000’ سرِفہرست ہیں۔

‘ٹاپی’ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ (ٹاپی) ہے جب کہ کاسا 1000 میں کرغستان اور تاجکستان سے افغانستان اور پاکستان کو 1300 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ یہ دونوں منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔مبصرین پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک سے روابط میں اضافے کو ملک کی خارجہ پالیسی کو متنوع بنانے اور خطے میں ‘سفارتی تنہائی’ دور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سابق سفارت کار اور پاکستان کے دفتر خارجہ میں وسطی ایشیا، ترکیہ اور ایران کے سابق ڈائریکٹر جنرل نجم الثاقب کہتے ہیں کہ اسلام آباد کو یہ خیال دیر سے آیا ہے کہ وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہئیں جس کی ایک وجہ پاکستان کی توانائی ضروریات اور معاشی مشکلات بھی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button