پاکستان

نوازشریف،شاہد خاقان عباسی کو پھر وزیراعظم بنا دیتے مگر 2 ولن رکاوٹ بن گئے

شاہد خاقان عباسی نےبطور وزیراعظم وہ کمالات دکھائےکہ جنرل باجوہ سمیت ساری مقتدرہ ان کی مداح بن گئی وہ فائلوں کو میز پر رکنے نہیں دیتے تھے

لاہور(ویب ڈیسک) صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ میرے قائد انقلاب شاہد خاقان عباسی کو ملک کے سب سے تجربہ کار سیاستدان نواز شریف نے اپنے جانشین کے طور پر مانا، اُس نے بطور وزیر اعظم وہ کمالات دکھائے کہ جنرل باجوہ سمیت ساری مقتدرہ ان کی مداح بن گئی وہ فائلوں کو میز پر رکنے نہیں دیتے تھے ’’ون منٹ منیجر‘‘ کی طرح فوراً اور صحیح فیصلے کرتے تھے۔ قائد انقلاب کیلئے ہر طرف سے گرین سگنل تھا ،اتنی کامیاب وزارت ِعظمیٰ کے بعد ان کا حق تھا کہ انہیں نواز شریف پھر وزیر اعظم بنا دیتے ،بس درمیان میں دو ولن آگئے۔ مفتاح اسماعیل کی پالیسیاں اسحاق ڈار کو پسند نہ آئیں اور انہوں نے نواز شریف کوبھی اس بات پر ہم نوابنا لیا۔ میرے قائد انقلاب کواصل مسئلہ مریم اور شہباز شریف کی طرف سے آیا۔ اب مریم کا کیا مقام تھا کہ وہ قائد انقلاب کے برابر کے عہدے، ن لیگ کی نائب صدارت ،پر فائز ہو۔ قائد انقلاب کو لازمی طور پر برا لگا کہ کہاں وہ جن کی زمانہ تعریفیں کرتا ہے اور ایک وہ خاتون جس کا کوئی سیاسی تجربہ ہی نہیں،وہ دونوںبرابر کے عہدوں پر کیسے رہ سکتے ہیں؟ کہاں اتنا بڑا لیڈر اور کہاں رشتہ داری کی بنیاد پر اہم خاتون۔ دونوں کا کیا موازنہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس خاتون نے بڑےبڑے جلسے کئے، مزاحمت کی ، ڈٹ کر کھڑی رہی، مگر میرٹ تو قابلیت کوہونا چاہیے۔ قائد انقلاب جیسا میرٹ ن لیگ میں کسی کا بھی نہیں تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button