نگر نگر سے

لاہور:بچےکےہاتھوں قتل کی ایک لرزہ خیز واردات

ایک معمولی سی بات پر 10 سالہ بچے نے اپنے ساتھی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا

لاہورمیں کم سن بچےکےہاتھوں قتل کی ایک لرزہ خیز واردات پیش آئی جہاں ایک معمولی سی بات پر 10 سالہ بچے نے اپنے ساتھی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی سیشن کورٹ میں قتل کے کم سن ملزم 10 سالہ مزمل کو ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیا۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افتخار احمد نے کی۔ پولیس کی جانب سے ملزم مزمل کا چالان اور ملزم مزمل کی جانب سے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروایا گیا۔

دوران سماعت پراسیکیوشن نےعدالت میں بیان دیا کہ 10 سالہ ملزم مزمل نے 11 سالہ عبدالرحمان کوچھری کےوارکرکےقتل کیا۔ پراسیکیوشن کےمطابق دونوں بچوں میں تنازعہ قتل کی وجہ گلی میں چارپائی بچھانا بنی۔ ملزم مزمل کے خلاف تھانہ ہڈیارا میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کےبعد اسےگرفتارکرکےکارروائی کا آغازکیا گیا۔ خیال رہےکہ اس سےقبل سیالکوٹ کےعلاقہ قلعہ کالروالا میں موجود ایک نجی اسکول میں فائرنگ سےچہارم کا طالب علم جاں بحق ہوگیا۔ فائرنگ کےبعد ملزم موقع سےفرارہونےمیں کامیاب ہوگیا جس کی تلاش کا آغاز کردیا گیا ہے۔

پولیس حکام کےمطابق قریبی اسکول کےمیٹرک کےطالب علم غلام اکبرنےدوسرے اسکول میں گُھس کراسکول آفس سےسکیورٹی گارڈ کی گن لی اورفائرنگ کردی۔ فائرنگ کےنتیجےمیں ایک طالبعلم جاں بحق ہوا جس کی شناخت ایان جاوید کےنام سےہوئی۔ پولیس نےبتایا کہ فائرنگ کےنتیجےمیں جاں بحق ہونےوالا بچہ اپنےوالدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ پولیس قلعہ کالروالا کا کہنا ہےکہ فائرنگ کےوقت پرنسپل سیٹ پرموجود نہیں تھا، جبکہ سکیورٹی گارڈ کی گن بھی غیرمحفوظ طریقےسےرکھی گئی تھی۔ بچوں میں بڑھتےہوئےعدم برداشت کےرجحانات پرماہرین نفسیات نےبھی تشویش کا اظہارکیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button