پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پرویز الٰہی اور فضل الرحمن معاہدہ منظر عام پرآگیا

جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمن حکومت گرانے اسلام آباد اپنی مرضی سے نہیں آئے اور نہ ہی واپس گئے

مسلم لیگ ق کے رہنماء‘ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور مولانا جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہونیوالا معاہدہ منظر عام پر آگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے اسلام آباد اپنی مرضی سے نہیں آئے اور نہ ہی واپس گئے۔ پرویز الٰہی نے انہیں کہا تھا کہ عمران خان معیشت بہتر نہ کر سکے،حالات ٹھیک نہ ہوئے تو ہم ایسا لائحہ عمل بنائیں گے کہ نئے انتخابات کروائے جائیں گے۔انہیں پی پی اور ن لیگ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔مولانا کو کہا گیا کہ آپ دھرنا دیں، عمران خان ناکام ہو جائے گا تو ہم مل کر نئے الیکشن کر وائیں گے۔ دھرنے سے قبل مولانا فضل الرحمن کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کئی ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔

ملاقاتوں میں مولانا کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کروائی گئی۔لیکن بعد میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے دونوں جماعتوں نے فائدہ اٹھا لیا اور وہ کرپشن سے پاک ہو گئے۔اب مولانا ان سے سوال کرتے ہیں کہ ان دونوں پارٹیوں نے تو فائدہ حاصل کر لیا مگر ان سے نئے انتخابات کا وعدہ کیا گیا جو پورا نہیں ہوا۔

Tags
Back to top button
Close