پاکستان

نیا ناظم آباد ہاؤسنگ سکیم کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا

ڈپٹی کمشنر ضلع غربی فیاض سولنگی نے محکمہ اینٹی کرپشن، سیکرٹری لینڈ یوٹی لائزیشن اور دیگر متعلقہ حکام کو خط لکھا

کراچی میں ضلع غربی کے ڈپٹی کمشنر فیاض سولنگی نے نیا ناظم آباد ہاؤسنگ سکیم کو غیر قانونی قرار دے دیا تاہم ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ کی درخواست پر ہائی کورٹ نے کارروائی سے روک دیا۔

کراچی میں نیاناظم آباد نامی رہائشی منصوبے پر جعل سازی کا الزام لگ گیا۔ ڈپٹی کمشنر ضلع غربی فیاض سولنگی نے منصوبے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن، سیکرٹری لینڈ یوٹی لائزیشن اور دیگر متعلقہ حکام کو خط لکھا۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ سیمنٹ فیکٹری کے لیے 1960 میں 1074 ایکڑ زمین 30 سالہ لیز پر الاٹ کی گئی جسے ایک سال بعد جعلسازی سے 99 سالہ لیز میں تبدیل کردیا گیا۔

خط میں حوالہ دیا گیا کہ سپریم کورٹ نے 2012 میں اِس زمین کی فروخت اور منتقلی پر پابندی لگائی تھی مگر اس زمین پر نہ صرف رہائشی منصوبہ بنایا گیا بلکہ فروخت اور منتقلی کا عمل بھی جاری رہا۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ سندھ حکومت نے نیا ناظم آباد رہائشی اسکیم کی زمین 2013 میں منسوخ کردی تھی جبکہ 2013 میں اسکیم کا گھٹ ودھ فارم (کمی بیشی فارم)محکمہ سروے اینڈ سیٹلمنٹ نے کینسل کردیا تھا لیکن نیا ناظم آباد کی انتظامیہ نے ایک جعلی خط کے ذریعے اسے 2016 میں بحال ظاہر کیا جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ خط میں پروجیکٹ کے لیے 128 ایکڑ زمین پابندی کے باوجود لیز کیے جانے کا انکشاف بھی کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر ضلع غربی فیاض عالم سولنگی نے سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن سے نیا ناظم آباد ہاسنگ اسکیم کے لیز آرڈر اور فیس چالان کی تصدیق کرنے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے نیا ناظم آباد ہاسنگ اسکیم کا لے آٹ پلان منسوخ کرنے کی سفارش کی۔ خیال رہے کہ نیا ناظم آباد اسکیم کے مالکان میں عارف حبیب اور عقیل کریم ڈھیڈی شامل ہیں۔

Tags
Back to top button
Close