پاکستان

مشروبات بنانیوالی کمپنیوں اور حکومت میں ٹھن گئی

مشروبات بنانے والی کمپنیاں بند ہونے سے حکومت کو اربوں روپے ریونیو کا نقصان ہوسکتا ہے

حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے بعد مشروبات بنانیوالی کمپنیوں اور حکومت میں ٹھن گئی ہے۔

کھوج نیوز ذرائع کے مطابق حکومت سے مشروبات کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر پابندی ختم نہ کی گئی تھی ملک میں بھر تمام کمپنیوں کو بند کر دیا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ مشروبات کمپنیاں بند ہونے سے حکومت کو اربوں روپے ریونیو کا نقصان ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرک مجسٹریٹ نی سیکشن 144 کے تحت دو ماہ کے لیے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کی۔

مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دارالحکومت میں موجود تعلیمی اداروں اور مدارس کی حدود میں کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کی سافٹ ڈرنکس، انرجی اور میٹھے ڈرنکس فروخت نہیں کرے گا۔ نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ عام طور سے تعلیمی اداروں میں موجود کیفے وغیرہ میں بغیر یہ دیکھے کاربونیٹڈ ڈرنکس فروخت ہوتی ہیں کہ اس میں صحت بخش اجزا موجود ہیں یا نہیں۔اس طرح کی چیزیں بچوں کی صحت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہی وجہ ہے ان مشروبات کی فروخت کیخلاف ایکشن لینے کی ضرورت تھی۔ ڈپٹی کمشنر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس فیصلے سے قبل ایک پول کیا گیا جس کے بعد اِن مشروبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پولنگ میں 91 فیصد لوگوں نے مشروبات پر پابندی کے حق میں ووٹ دیے۔ ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق یہ مشروبات بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

Tags
Back to top button
Close