پاکستانفیچرڈ پوسٹ

شہزاد اکبر پر حکومت نے کتنے کروڑ خرچ کیے؟ سنسنی خیز انکشاف

ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو)18ماہ میں ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے اور کارکردگی صفر

حکومت کی طرف سے بنایا گیا ایسٹ ریکوری یونٹ کے اہم رکن شہزاد اکبر کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ ان پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو)کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ اے آر یو حکام اب تک 15 سے زائد بین الاقوامی دورے کرچکے ہیں، ان میں سوئٹزرلینڈ، لندن، دبئی اور بیجنگ وغیرہ کے دورے شامل ہیں۔ اے آر یو حکام نے ملتان میٹرو پروجیکٹ اور بلٹ ٹرین پروجیکٹ سے متعلق تفصیلات چینی حکام سے طلب کی تھیں لیکن اس میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اے آر یو اور ایف بی آر کے درمیان رابطوں کا فقدان تھا، اے آر یو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا جنہوں نے ایمنسٹی حاصل کی تھی۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ تیار کی جارہی ہے جس میں آڈیٹرز نے اے آر یو کے اخراجات میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ رپورٹ رواں برس اپریل میں مکمل ہوگی۔

قوم کا لوٹا گیا پیسہ بازیاب کرنا حکومت کے لیے تاحال مشکل ہے۔ ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو)18ماہ میں ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے جب کہ اے آر یو چیئرمین اور ان کی ٹیم اب تک کم وبیش 15 غیر ملکی دورے کرچکی ہے۔ اے آر یو افسر کے مطابق، یونٹ قائم ہوئے ابھی صرف 18 ماہ ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آئے گی، کوشش ہے کہ جلد سے جلد قوم کی لوٹی گئی رقوم ملک میں واپس لائیں۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آر یو نے اب تک بہت کم پیسہ ہی بازیاب کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی کابینہ نے یہ یونٹ قائم کیا تھا۔ اس پر گزشتہ 18 ماہ کے دوران ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس یونٹ کا بنیادی مقصد عوام کی لوٹی گئی دولت ملک میں واپس لانا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرون ممالک بھجوائے گئے 11 ارب ڈالرز ملک میں واپس لانا حکومت کے لیے بہت مشکل ہے۔ ایف آئی اے اور ایف بی آر کے تعاون کے باوجود مذکورہ یونٹ کوئی خاص پیش رفت نہیں کرسکا ہے۔ ایف بی آر کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اور ایف آئی اے نے اے آر یو کی درخواست پر تقریبا 120 افراد کی معلومات فراہم کیں جنہوں نے ملکی قوانین توڑتے ہوئے بیرون ممالک جائیدادیں خریدیں۔

Tags
Back to top button
Close