پاکستان

بیورو کریسی نے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

سیکرٹریز کمیٹی نے بھی وفاقی سیکرٹریٹ کے ملازمین کیلئے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے

بیورو کریسی نے حکومت سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کے بعد عمران خان حکومت کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

تفصیلا کے مطابق حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وفاقی حکومت کے تمام سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 20 فیصد خصوصی الانس دیا جائے اور ساتھ ہی یہ نشاندہی بھی کی تھی کہ وفاقی حکومت اپنے ملازمین کیخلاف امتیازی سلوک روا نہیں رکھ سکتی۔ تاہم، یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ سپریم کورٹ اور ساتھ ہی ہائی کورٹس نے اپنے کئی سال قبل اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 300 فیصد تک اضافہ کیا تھا۔ عدلیہ کے ملازمین کی تنخواہوں میں اس اضافے کو مختلف معاملات میں مثال کے طور پر پیش کیا گیا جس میں منتخب گروپس کو ان کی تنخواہوں میں خصوصی اضافے کی منظوری دی گئی لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امتیازی صورتحال میں اضافہ ہوگیا۔ جس وقت حکومت نے ایف آئی اے ملازمین کی تنخواہوں میں 150 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، وزارت قانون نے بھی اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 300 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکرٹریز کمیٹی نے بھی وفاقی سیکرٹریٹ کے ملازمین کیلئے تنخواہوں میں نہ صرف 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ہر وفاقی سیکرٹری کو تنخواہ میں ماہانہ چار لاکھ روپے کا اسپیشل الانس بھی مانگ لیا ہے۔ اپنے علیحدہ مطالبے میں وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین نے تنخواہوں میں 120 فیصد مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ 2 مارچ سے قلم چھوڑ ہڑتال کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطع نظر گریڈ کے، وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں کا ڈھانچہ مایوس کن ہے۔ وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین کو 20 فیصد سیکرٹریٹ الانس ملتا ہے جس کے باعث وہ ایسے ملازمین کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہیں جو منسلک محکموں وغیرہ میں کام کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں اسی سیکریٹریٹ الانس کو امتیازی قرار دیا تھا لہذا وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کو یہ 20 فیصد دیا جائے۔

Tags
Back to top button
Close