پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کورونا وائرس کا ٹیسٹ، مفت کرنے کی بجائے من مانے ریٹ مقرر

کئی شہروں میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے تاہم ان کی تصدیق نہیں کی جا سکی

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب پاکستان پہنچ چکا ہے اور اس کا ٹیسٹ کرنے کے لئے لیبارٹریزی والوں نے من مانے ریٹ مقرر کر دیئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کروناوائرس عالمی وبا بن سکتا ہے جس کے لیے دنیا کو تیار رہنا چاہیے۔ کورونا وائرس سے اب تک چین کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں بھی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔اب تک پاکستان میں سرکاری سطح پر کورونا وائرس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن میں سے ایک وہ طالب علم ہے جوایران سے پاکستان آیا تھا۔اس کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے تاہم ان کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔اگرچہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے دونوں مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہیں تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان میں کرونا وائرس کا خوف طاری ہو گیا ہے۔

عام صورتحال میں بھی جن لوگوں کو نزلہ زکام یا کھانسی ہے وہ خود کو کرونا وائرس کا شکار سمجھ بیٹھتے ہیں۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِن مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص کیسے ہو گی؟۔پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی فیس سے متعلق مختلف قسم کی خبریں زیر گردش ہیں۔بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلا کے پیش نظر ماسک مہنگے ہونے کے بعد کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی فیس کمائی کا ایک نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کچھ پرائیویٹ لیبز کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے 8ہزار روپے وصول کر رہی ہیں۔یہاں تک کہ کچھ لیبز کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے (رئیل ٹائم پی سی آر)ٹیسٹ استعمال کررہی ہیں لیکن اس کے بدلے مریضوں سے بھاری رقم وصول کررہی ہیں۔کرونا وائرس کا ٹیسٹ گلے اور ناک کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کی رپورٹ ایک دن بعد مریض کو دی جاتی ہے۔چونکہ کرونا وائرس کی علامات سب کو پتہ ہیں تو ایسی علامات کا شکار ہونے کے بعد مریض ڈاکٹرز کے پاس دوڑے چلے جاتے ہیں لیکن یہاں پر سوال ان لوگوں کا ہے جو پرائیویٹ لیبز کو کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ہزاروں روپے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

Tags
Back to top button
Close