پاکستان

لاک ڈائون’درجنوں پرندے اور جانور ہلاک، انٹرنیشنل رپورٹ

مسلسل مارکیٹیں بند رکھے جانے کی وجہ سے دکانوں میں قید پرندے اور جانور 70 فیصد ہلاک ہوگئے

کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے گزشتہ ماہ 22 مارچ سے ملک کے چاروں صوبوں میں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند دکانوں میں قید درجنوں پرندے اور جانور ہلاک ہوگئے۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت ملک کے مختلف بڑے شہروں میں جانوروں اور پرندوں کی مارکیٹیں ہیں، جہاں پر ان کی فروخت کی جاتی ہے۔ ملک میں پرندوں اور جانوروں کی سب سے بڑی مارکیٹیں کراچی اور لاہور میں ہی موجود ہیں جو گزشتہ ماہ لاک ڈاون کے بعد بند کردی گئیں اور اس دوران دکانوں میں موجود پرندے اور جانور قید رہ گئے۔مسلسل مارکیٹیں بند رکھے جانے کی وجہ سے دکانوں میں قید پرندے اور جانور ہلاک ہوگئے اور کئی دکانوں کے 70 فیصد جانور ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق لاک ڈاون کی وجہ سے مارکیٹوں کی بندش کے باعث پاکستان کے بڑے شہروں کی جانور و پرندوں کی مارکیٹوں کی دکانوں میں درجنوں، بلیوں، کتوں اور خرگوشوں سمیت پرندوں کو مردہ پایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے دکانوں کی بندش کے باعث پرندوں اور جانوروں کی ہلاکت کے بعد کراچی کی اینیمل ریسکیو تنظیم عائشہ چندریگر فاونڈیشن(اے سی ایف) نے صوبہ سندھ سے رابطہ کرکے مزید جانوروں کو محفوظ بنانے کی اجازت طلب کی۔

حکومت سندھ کی جانب سے اجازت دئیے جانے کے بعد مذکورہ تنظیم نے شہر میں پرندوں کی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک امپریس مارکیٹ میں امدادی کارروائی کرکے درجنوں قید پرندوں اور جانوروں کی زندگی کو محفوظ بنایا۔سماجی تنظیم کے مطابق کراچی میں گزشتہ 2 ہفتوں سے زائد عرصیسے لاک ڈاون نافذ ہے اور اس دوران تمام پرندے اور جانور دکانوں میں قید رہے۔دکانوں میں قید ہزاروں پرندے اور جانور غذا کی عدم فراہمی سمیت دیگر امدادی کارروائیاں نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے اور کچھ دکانوں میں موجود 70 فیصد پرندے اور جانور ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی کی طرح پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی لاک ڈاون کی وجہ سے دکانوں اور مارکیٹوں میں بند جانور و پرندے ہلاک ہوگئے۔لاہور میں پرندوں اور جانوروں کی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک ٹورنٹن مارکیٹ میں بھی مسلسل دکانیں بند رہنے کی وجہ سے درجنوں کتے، بلیاں اور خرگوش مردہ پائے گئے۔لاہور میں جانوروں کے حوالے سے کام کرنے والی سماجی رہنما کرن ماہین کے مطابق مقامی انتظامیہ نے جب ان کے کہنے پر جانوروں اور پرندوں کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور پولیس نے دکانوں کے دروازے کھولے تو درجنوں جانوروں اور پرندوں کو مردہ پایا گیا۔ کراچی اور لاہور کی طرح دیگر بڑے شہروں میں بھی پرندوں اور جانوروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ نے اب سماجی تنظیموں کو دکانوں میں قید پرندوں اور جانوروں کو امداد فراہم کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔

پاکستان میں لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں دکانوں میں قید رہ جانے والے پرندوں اور جانوروں کی زندگی داو پر لگ گئی ہے، وہیں ملک میں دیگر سرگرمیاں معطل ہونے سے بھی کئی مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں۔لاک ڈاون کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل ہونے کے باعث لاکھوں مزدور یومیہ اجرت سے محروم ہوگئے ہیں جبکہ بچوں کی ویکسین کا عمل رکنے سے بھی لاکھوں بچوں کی زندگیاں داو پر لگ گئی ہیں۔ ماہرین صحت نے لاک ڈاون کی وجہ سے پولیو، خسرہ اور تشنج سمیت دیگر بیماریوں کی حفاظتی ویکسین کی معطلی پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاو کی وجہ سے دیگر حفاظتی ٹیکوں کی سرگرمیوں کو معطل کرنے سے بچے غیر محفوظ بن سکتے ہیں۔پاکستان میں سالانہ تقریبا 78 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ہر تین میں سے ایک بچہ اپنی پہلی سالگرہ منانے تک کسی بھی طرح کی بیماری سے بچاو کی ویکسین لگوانے سے محروم رہتا ہے اور اب لاک ڈاون کی وجہ سے یہ صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے، جس وجہ سے ماہرین نے بچوں کی شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

Tags
Back to top button
Close