پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ہم غلطی پر تھے، حکومت کا اعتراف، اسٹیبلشمنٹ ناراض

فرانزک رپورٹ میں گنے کی خریداری سے لے کر مارکیٹ میں جوڑ توڑ اور کارٹلائزیشن تک تفصیلی شواہد ہیں

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ چینی سکینڈل میں ہم غلطی پر تھے اس اعتراف کے بعد اسٹیبلشمنٹ حکومت سے ناراض ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاہے کہ یہ کوتاہی ضرور ہوئی کہ چینی کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو ایکسپورٹ نہیں روکی گئی،چینی کے کاروبار میں بہت زیادہ منافع ہے تمام بااثر لوگ یہ کاروبار کررہے ہیں،چینی ایکسپورٹ کرنے کے فیصلے میں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا گیا،حکومت چینی کی قیمت کو کنٹرول کرے گی، چینی کی لاگت کے خودمختار تجزیے کے بعد شوگر ملز مہنگی چینی نہیں بیچ سکیں گی،چینی کی لاگت میں ٹیکس اور منافع بھی شامل کرلیں تو چینی کی قیمت 61روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے، جہانگیر ترین نے 67روپے کلو چینی بیچی تب بھی سات سے آٹھ روپے مزید منافع حاصل کیا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، شوگر مافیا کیسے کام کرتا ہے اس سے متعلق اہم تفصیلات اس رپورٹ میں سامنے لائی گئی ہیں،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ گزشتہ سال بھی میں نے کہا تھا کہ شوگر انڈسٹری کے اندر تحقیقات ہونی چاہئے، وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے، وزیراعظم نے چینی بحران پر انکوائری کروانے اور جاری کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کیا، عوام کو اس طرح کے کمیشنوں کے نتائج کا علم ضرور ہونا چاہئے، جہانگیر ترین سمیت جن لوگوں کا نام آیا ان کی اس رپورٹ کے خلاف بات عمومی ہے، کمیشن نے شواہد کی بنیاد پر فرانزک آڈٹ کیا ہے، فارنزک رپورٹ میں گنے کی خریداری سے لے کر مارکیٹ میں جوڑ توڑ اور کارٹلائزیشن تک تفصیلی شواہد کے ساتھ بات کی گئی ہے۔

Tags
Back to top button
Close