پاکستانفیچرڈ پوسٹ

آزادی کشمیر، پہلا موقع پرویز مشرف، دوسرا عمران خان نے گنوا دیا‘ سلیم صافی

پرویز مشرف کے بعد سفارتی لحاظ سے ایک اور موقع اب عمران خان کے ہاتھ آیا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ موقع بھی ضائع کردیا گیا

سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی نے آزادی کشمیر کے حوالے سے کہا ہے کہ آزادی کشمیر کا پہلا موقع پرویز مشرف جبکہ دوسرا موقع عمران خان نے گنوا دیا ہے۔

سلیم صافی کا کہنا تھا کہ جنگی لحاظ سے کشمیر کو آزاد کرانے کا پاکستان کو ایک موقع (62کی چین انڈیا جنگ) ہاتھ آیا تھا لیکن اس وقت امریکہ کے ساتھ دوستی اور محبت میں جنرل ایوب خان نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔ سفارتی حوالوں سے بہترین موقع ایٹمی دھماکوں کے بعد ہاتھ آیا تھا جب بی جے پی جیسی انتہاپسند جماعت کی طرف سے جنونی مودی کی بجائے واجپائی جیسے شاعر انڈیا کے وزیراعظم تھے اور لاہور آکر انہوں نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے اور کشمیر پر گفتگو کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن بدقسمتی سے پرویز مشرف کے کارگل ایڈونچر کی وجہ سے وہ سلسلہ ختم ہوگیا۔سفارتی حوالوں سے دوسرا نادر موقع نائن الیون کے بعد ہاتھ آیا تھا کیونکہ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تھی اور جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ کشمیر کاز کو بچانے کے لئے انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیا لیکن کیمپ ڈیوڈ میں صدربش کا مہمان خصوصی بننے کے باوجود وہ کشمیر کے معاملے پر امریکہ کو استعمال کرکے ہندوستان سے کشمیریوں کو کوئی رعایت نہ دلواسکے۔

پرویز مشرف کے بعد سفارتی لحاظ سے ایک اور موقع اب عمران خان کے ہاتھ آیا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ موقع بھی ضائع کردیا گیا۔ میرے اس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بنتے وقت کچھ بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔ مشرف، زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کو اس بری طرح دہشت گردی کا سامنا تھا کہ وہ کسی اور محاذ پر ایک خاص حد سے زیادہ توجہ نہیں دے سکتے تھے لیکن عمران خان کو ایسے وقت میں اقتدار ملا کہ دہشت گردی کا عفریت بڑی حد تک قابو میں آگیا تھا۔

دوسری تبدیلی یہ آئی تھی کہ وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں خالص اندرونی اور عوامی بغاوت جنم لے چکی تھی اور پاکستان سے مداخلت کے مکمل خاتمے کی وجہ سے دنیا یہ دیکھ رہی تھی کہ یہ خالص اندرونی اور مظلومانہ جدوجہد ہے جسے دنیا میں مارکیٹ کرنا نسبتا آسان تھا۔ تیسری بڑی تبدیلی بی جے پی اور مودی کی ہندتوا کی جارحانہ پالیسی کی صورت میں آئی تھی جس کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان کے اندر اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوئیں بلکہ اس کے انتہاپسند چہرے سے سیکولرازم کا نقاب بھی اتر گیا تھا۔چوتھی اور سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی تھی کہ نائن الیون کے بعد پہلی بار امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے افغانستان سے انخلا کی اپنی پالیسی واضح کی اور اس کے لئے اسے پاکستان کی مدد درکار تھی جو پاکستان نے فراہم کردی۔ گویا 2001کے بعد یہ پہلا دور تھا کہ امریکہ طالبان کے معاملے پر پاکستان کا محتاج بن گیا تھا۔ یوں پاکستان اسے کشمیر اور ہندوستان کے معاملے میں بارگیننگ چِپ کے طور پر استعمال کرسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے ناتجربہ کاری اور غیرسنجیدگی کی وجہ سے عمران خان کی حکومت ان سب عوامل کو اپنے اور کشمیر کے حق میں استعمال کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔

Back to top button