پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مولانا فضل الرحمن کا میٹر ڈاؤن، ٹیک آف کی تیاری‘ ستمبر میں دھڑن تختہ ہوگا یا نہیں؟ تفصیلات منظرعام پر

اپوزیشن جماعتوں میں ایک طبقہ انتہا پسند قدم اٹھانے کے حق میں ہے اور چاہتا ہے کہ پوری اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا میٹر ڈاؤن ہوگیا اور انہوں نے ٹیک آف کی تیاری کر لی ہے، ستمبر میں دھڑن تختہ ہوگا یا نہیں تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں میں ایک طبقہ انتہا پسند قدم اٹھانے کے حق میں ہے اور چاہتا ہے کہ پوری اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے موجودہ حکومتی سیٹ اپ کی ناجائزیت عیاں ہو جائے گی اور نئے انتخابات کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس طبقہ فکر کے سرخیل مولانا فضل الرحمن ہیں اور وہ شدومد سے اس بات کے داعی ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت سے نجات حاصل کرنے کا یہی واحد حل ہے۔مولانا نے دیگر اپوزیشن لیڈروں سے شکائت کی ہے کہ انہوں نے اسلام آباد سے اپنا گزشتہ برس کا دھرنا اس گارنٹی پر ختم کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی طرح اپوزیشن جماعتوں میں ایک اور طبقے کا کہنا ہے کہ حکومت کی فرینڈلی اپوزیشن سے انہیں دھیلے کا فائدہ نہیں ہوا اور اب وقت آگیا ہے کہ گاڑی کو ٹاپ گیئر میں ڈال دیا جائے۔ ایسے لوگ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی صفوں میں بکھرے ہوئے ہیں اور درون خانہ مجلسوں میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں کہ اے پی سی کو عوامی جلسوں اور ریلیوں کا اعلان کیا جائے تاکہ ایسا شوروغوغا پیدا ہو سکے کہ جس سے حالات میں گرما گرمی کا تاثر ابھر آئے۔ ان کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کو کراچی، لاہور، پشاور اور چند دیگر بڑ ے شہروں میں عوامی اجتماعات منعقد کرنے چاہئے تاکہ حکومت پر دباو بڑھایا جاسکے۔ ایسا بڑے بڑے ہجوم اکٹھے کرکے کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن کی پوری قیادت ایک ہی وقت میں سٹیج پر جلسہ افروز ہو اور حکومت کے خلاف ایک پیج پر ہونے کا تاثر دے۔ ان کے خیال میں انہیں کوئی افراتفری یا سماجی بے چینی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے سپورٹروں کو متحرک کرنے کے لئے احتجاجوں کے اہتمام کی ضرورت ہے اور اس کے بجائے صرف انکار کی ایک فضا بنانے کی ضرورت ہے جو حکومت کو ردعمل دینے پر مجبور کردے۔اس طبقے کے مطابق اس کے بعد اپوزیشن کی مذاکراتی پوزیشن مستحکم ہو جائے گی۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں کو یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ اگر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیں گے اور ان کی جماعت جیلیں اور عدالتی احاطے ایسے بھردے گی کہ وہاں تل دھرنے کو جگہ نہ بچے گی!

Back to top button