پاکستان

حکومت نوازشریف سے کیوں پریشان؟ رانا ثناء اللہ نے سچائی سامنے لے آئے

حکومت نے خود نوازشریف کو باہر بھیجا، جس کیس میں نوازشریف کو سزا ہوئی، اس میں وہ بری ہونے والے ہیں

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے سچائی سامنے لاتے ہوئے کہا کہ حکومت نوازشریف سے پریشان اس لئے ہے کہ ان کو حکومت جانے کا ڈر ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو اندیشہ ہے کہ کہیں نوازشریف واپس نہ آجائے، حکومت نواز شریف کے بارے میں بحث چھیڑکر مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے خود نوازشریف کو باہر بھیجا، جس کیس میں نوازشریف کو سزا ہوئی، اس میں وہ بری ہونے والے ہیں، سزاسنانے والاجج بھی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی پہلی ترجیح علاج ہے، کورونا کی وجہ سے نوازشریف کا علاج تاخیرکا شکار ہوا، اکتوبر تک علاج کے معاملات حل ہوں گے تو اس کے بعد وطن واپسی ہوگی، بیماری کی نوعیت ایسی ہیکہ تھوڑی سی بھی بے احتیاطی مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی سوچ کے مالک لوگ نوازشریف کی صحت پر سیاست کررہے ہیں، ہر کسی کو سازش کرکے سزا نہیں دلائی جاتی، نوازشریف کا بطور قیدی دوسرے قیدی سے موازنہ نہیں کرایا جاسکتا، حکمرانوں کے جھوٹ اور سازشیں بے نقاب ہوچکی ہیں، مسلم لیگ ن کا کوئی نقصان نہیں ہورہا۔

صدر ن لیگ پنجاب کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے قومی سلامتی کے اداروں کے کہنے پر حکومت سے مذاکرات کیے، چھوٹی جماعتوں کواعتماد میں نہ لینے سے ان میں بے اعتمادی پیدا ہوئی۔ اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں اپوزیشن کے اتحاد میں شامل ہوں گی اور ہم مولانا فضل الرحمان کو لکھ کر دینے کے لیے تیار ہیں، شہباز شریف انگوٹھا بھی ثبت کریں گے، ایک دوسرے پراعتماد اور ساتھ چلنے کی ضرورت ہے، اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی)جو فیصلہ کریگی ن لیگ اس کے ساتھ ہوگی۔

Back to top button