پاکستانفیچرڈ پوسٹ

سی پیک ،حافظ حسین احمد کےحکومت پرطوفانی وار

بلوچستان اور سی پیک منصوبے،حافظ حسین احمد کے حکومت پرطوفانی وار‘وزیراعظم عمران خان الزامات کی لپیٹ میں

بلوچستان اور سی پیک منصوبے، حافظ حسین احمد کے حکومت پر طوفانی وار‘ وزیراعظم عمران خان الزامات کی لپیٹ میں، حکومت ہل کر رہ گئی ماضی میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ جب کسی پر کرپشن کا الزام لگے تو وہ اپنے منصب سے مستعفی ہوجائے جمعیت علما اسلام ف کے رہنماحافظ حسین احمد نے عاصم سلیم باجوہ سے سی پیک کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ جب تک عدالت جاکر خود کو بے گناہ ثابت نہیں کرتے تب تک وہ سی پیک کی سربراہی سے الگ ہوجائیں، اگر اب بھی وہ اپنے عہدوں پر قائم رہے تو پھر ثابت ہوگا کہ احتساب کے نام پرصرف ڈھونگ رچایا گیا ہے، عاصم سلیم باجوہ سٹوری کرنے والے صحافی احمد نورانی کے خلاف عدالت نہیں جائیں گے کیونکہ ماضی میں جب اس طرح کے انکشافات ہوئے تو عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا گیا مگر عدالت کوئی نہیں گیا۔
حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ جب کسی پر کرپشن کا الزام لگے تو وہ اپنے منصب سے مستعفی ہوجائے لیکن اب وہ پیش کئے گئے استعفی کو بھی واپس کررہے ہیں جوکہ عمران خان کا ایک اور بڑا یوٹرن ہے،جب تک عاصم سلیم باجوہ خود پر لگائے گئے الزامات سے بری نہیں ہوتے تب تک وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات سمیت سی پیک کی سربراہی سے مستعفی ہوجائیں۔
جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ کچھ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں یا ان کو بالاتر رکھا جاتا ہے جنرل پرویزمشرف لال مسجد، نواب اکبر بگٹی قتل کیس اور پاکستان کے آئین کو توڑنے آرٹیکل 6 کے تحت اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جارہے تھے کہ ایک ادارے نے کس طرح انہیں عدالت کے بجائے امراض قلب کے ہسپتال پہنچا دیاتھا حالانکہ پرویز مشرف کو تکلیف کمر کی تھی لیکن دل کے ہسپتال میں پہنچایا گیا اور اب وہ دبئی میں بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کا کیس پانامہ کیس سے مماثلت رکھتا ہے، وہاں بھی دو بیٹوں کا مسئلہ تھا،یہاں بھی دو بیٹوں کا مسئلہ ہے، وہاں برطانیہ میں جائیداد کی بات تھی، یہاں امریکہ میں جائیداد کی بات ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کیس سیاستدان کے خلاف تھا اور یہ کیس ریٹائرڈ جنرل کے خلاف ہے۔حافظ حسین احمد نے دعوی کیا کہ عاصم سلیم باجوہ سٹوری کرنے والے صحافی احمد نورانی کے خلاف عدالت نہیں جائیں گے کیو کہ ماضی میں جب اس طرح کے انکشافات ہوئے تو عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا گیا مگر عدالت کوئی نہیں گیا۔
Back to top button