پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ق لیگ اور مینگل گروپ کے بعد ایم کیو ایم کے بھی ن لیگ سے رابطے

ق لیگ اور مینگل گروپ کے بعد ایم کیو ایم کے بھی ن لیگ سے رابطے،،سیاسی جوڑ توڑ عروج پر،پرندوں نے اڑان بھرنے کی تیاری کر لی،تازہ ترین خبر

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ن لیگ کا ایجنڈا اِن ہاؤس تبدیلی نہیں، مڈٹرم انتخابات ہیں، اے پی سی میں استعفوں کا فیصلہ ہوا تو ن لیگ تیار ہے، حکومتی اتحادیوں سے رابطے ہیں، وہ کچھ شرائط پر ہمارے ساتھ چلنے کو تیارہیں۔ انہوں نے  کہا کہ اگر اے پی سی میں استعفے دینے کا فیصلہ ہوا تو مسلم لیگ ن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کو تیار ہے۔ہمارا ایجنڈا ایوان میں ان ہاؤس تبدیلی نہیں ہے بلکہ ہمارا ایجنڈا ملک میں نئے انتخابات ہیں۔ان ہاؤس تبدیلی پیپلزپارٹی کی سوچ ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومتی اتحادی کچھ شرائط پر ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ ق لیگ، ایم کیوایم اورمینگل گروپ سے مسلم لیگ ن کے رابطے ہیں۔

میں نام لوں گا تو حکومت اتحادیوں سے جواب ما نگے گی۔ اس لیے ان کیلئے مشکل پیدا ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف علاج کی غرض سے لندن گئے ، مکمل صحتیابی کے بعد وطن واپس آجائیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یہاں پر ہوں تو اچھا ہو گا لیکن جیل میں انہیں صحت کی سہولیات ملنا ممکن نہیں اس وجہ سے نواز شریف کسی حادثے سے دوچار بھی ہو سکتے ہیں۔ مشاورتی اجلاس میں نوازشریف نے کہا کہ پارٹی واپسی کا فیصلہ کرے تو آنے کو تیار ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ یہاں جیل میں نوازشریف کو ہارٹ اٹیک ہوا تو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگا، ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر نوازشریف کو پلیٹ لٹیس کا ٹیکہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان نے عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور نہ کرکے اپنی لئے مشکل کھڑی کرلی اور ان کو بھی مشکل میں ڈالا ہے، جو گڑھا نوازشریف کیلئے کھود کر دھکا دیا گیا آج سب اس گڑھے میں گررہے ہیں۔اگر آپ سیاستدان یا آپکا نام نوازشریف ہے تو آپ کا کڑا احتساب ہوگا، اگر آپ کا نام کچھ اور ہے تو ہر جواب تسلی بخش اور کاروبار درست ہوگا، اگر عاصم باجوہ کے انیس ہزار ڈالر اٹھارہ سال میں چھ ارب تہتر کروڑ روپے بن جائے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ باہر بچوں کے کم وقت میں ترقی کو یہ تسلیم نہیں کرتے رہے آج اسی بات کا دفاع کررہے ہیں۔ عاصم باجوہ کا استعفیٰ دینا درست اور وزیر اعظم کا منظور نہ کرنا غلط عمل ہے۔ عمران خان کے پاس کوئی اصول نہیں صرف ہمارے خلاف بغض تکبر اور نفرت ہے۔

Back to top button