پاکستان

خاتون کا ریپ:کوئی ملزم گرفتارنہیں ہوا, آئی جی پنجاب

ان کا کہنا ہےکہ میری میڈیا کےنمائندوں سےگزارش ہےکہ وہ تصدیق کےبغیرکوئی خبرنہ چلائیں

پنجاب کےانسپکٹرجنرل انعام غنی کا کہنا ہےکہ لاہورسیالکوٹ موٹروے ریپ کیس میں ابھی کوئی ملزم گرفتارنہیں ہوا۔ آئی جی پنجاب کے دفتر سے میڈیا کو ارسال کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلزاورسوشل میڈیا چلنے والی خبریں غلط اورحقائق کےمنافی ہیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ اس کیس کی تفتیش کو خود مانیٹرکر رہا ہوں اور کسی کامیابی پر میڈیا کو خود آگاہ کریں گے۔ ’ایسی غیر تصدیق شدہ خبریں نہ صرف کیس پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ عوام کے لیے بھی گمراہ کن ہیں، سوشل میڈیا پر ملزمان اور خاتون کی جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ بھی غلط اور جعلی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ میری میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ تصدیق کے بغیر کوئی خبر نہ چلائیں اور میری عوام سے بھی گزارش ہے کہ ہم پر اعتماد رکھیں ہم جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے۔ دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے سنیچر کی صبح ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ریپ کرنے والے گرفتار ہوں گے۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں کمرشل کورٹس کے ججز کی تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب میں موٹروے پر ہونے والے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شرمندگی کی بات ہے کہ ہائی وے پر کوئی سکیورٹی سسٹم اور میکانزم نہیں تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم مسافروں کو ہائی وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کا نظام غیر پیشہ وارانہ اور غیر ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں ہے جس نے ملک کا امن و امان تباہ کر دیا ہے۔‘

Back to top button