پاکستان

لاپتہ افراد کیس کی سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ کی حکومت پر چڑھائی

عدالتی حکم کے باوجود وفاقی وزیر داخلہ عدالت میں پیش نہ ہوئے جب کہ سیکرٹری داخلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوگئے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران حکومت پر چڑھائی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 50 مسنگ پرسنز ہیں تو ریاست کی رٹ کہاں ہے؟

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ شہری عبدالقدوس کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔ عدالتی حکم کے باوجود وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر)اعجاز شاہ عدالت میں پیش نہ ہوئے جب کہ سیکرٹری داخلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوگئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شہری عبدالقدوس بحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں جب کہ وزیرداخلہ علیل ہیں اس لیے آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ایس پی انوسٹی گیشن کے مطابق اسلام آبادمیں مسنگ پرسنز کی تعداد 50 سے زائد ہے، اگر وفاقی دارالحکومت میں 50 مسنگ پرسنز ہیں تو ریاست کی رٹ کہاں ہے؟ اسلام آباد میں 50 سے زائد شہریوں کا لاپتہ ہو جانا سنجیدہ معاملہ ہے۔

عدالت کا کہنا تھاکہ قانون میں صرف پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں اور قانو ناًصرف یہ 3 ادارے کارروائی کرسکتے ہیں،باقی ایجنسیاں نہیں کرسکتیں، اگر دیگر ایجنسیاں یہ کام کریں گی تو وہ قانون کی خلاف ورزی کریں گی اور وفاقی حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اور اس عدالت کی ہدایت پر معاملہ وزیراعظم اورکابینہ کیسامنے رکھا گیا ہے اور لاپتہ افراد کا معاملہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم تک پہنچ گیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وزیراعظم اور کابینہ تک پہنچانا ہی مقصد تھا،وزیر اور سیکرٹری داخلہ کوبلانے کامقصد لاپتہ افراد کے کیسز بڑھنے سے آگاہ کرنا تھا،یہ کیس تو ابھی حل ہوگیا، ابھی ہمارے پاس مزید 50 کیسز موجود ہیں۔ عدالت نے لاپتہ شہری عبدالقدوس کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی ہے۔

Back to top button