پاکستان

نوازشریف کی گرفتاری، مریم نواز والد کیلئے میدان میں آگئی

جج صاحب کب کے گھر جا چکے مگر فیصلہ آج بھی جوں کا توں ہے، جج ارشد ملک کو گھربھیج دیاگیا مگر یہ نہیں پوچھا گیاکہ سزا کس کے کہنے پر دی؟

مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کو گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم اسی مقدے میں ہے جس میں جج ارشد ملک نے بیگناہی، بلیک میلنگ اور زبردستی فیصلہ دلوانے کا بھی اعتراف کیا۔

مریم نواز کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ جج صاحب کب کے گھر جا چکے مگر فیصلہ آج بھی جوں کا توں ہے، جج ارشد ملک کو گھربھیج دیاگیا مگر یہ نہیں پوچھا گیاکہ سزا کس کے کہنے پر دی؟ بلکہ نواز شریف کو ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ جج کے اعترافِ جرم کے بعد سزا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اگر سزا ہی قائم نہ رہتی ہو تو واپسی کیسی، گرفتاری کیوں؟ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو جیل کی کال کوٹھری میں جانے کے لیے اپنی رفیقِ حیات کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر اور اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹنے وطن واپس آ گیا ہو اور قانون کے آگے پیش ہو گیا ہو، ایسے ہوتے ہیں مفرور اور اشتہاری؟

Back to top button