پاکستانفیچرڈ پوسٹ

چوہدری برادران پر عمران خان حکومت کے تابڑ توڑ حملے‘ برطانیہ نے بھی پاکستان کو اپنے جواب سے آگاہ کر دیا

دوبرس قبل وفاقی حکومت نے نیب اور ایک اور تحقیقاتی ادارے کی جانب سے برطانوی وزارت داخلہ کو پہلی بار رابطہ کیا تھا

پاکستان نے برطانوی حکام سے دو بار رابطہ کرکے حقیقت جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا برطانیہ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الہی اور چوہدری مونس الہی کے اثاثے ہیں یا نہیں؟

ذرائع کے مطابق دوبرس قبل تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کے اتحاد کے بعد وفاقی حکومت نے نیب اور ایک اور تحقیقاتی ادارے کی جانب سے برطانوی وزارت داخلہ کو پہلی بار رابطہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چوہدری برادران اور مونس الہی کی برطانیہ میں جائیداد کی تفتیش کے حوالے سے پچھلے چند ماہ میں برطانوی وزارت داخلہ سے ایک بار پھر رابطہ کیا ہے تاہم اب تک برطانیہ میں مونس الہی یا چویدری برادران کے نام پر اثاثوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ 2018میں پاناما پیپرز میں اپنے نام سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لیے مونس الہی نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ مونس الہی کا موقف ہے کہ انہوں نے اپنی تمام جائیداد پاکستانی حکام کے سامنے ظاہر کررکھی ہے۔مونس الہی کے مطابق وہ تمام اثاثے ظاہر کرچکے ہیں، اتحادیوں کے خلاف یہ اقدام حیران کن نہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کنارے لگانے کی ناکام کوشش کے بعد اب اتحادیوں کو ہدف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے اس حوالے سے تفتیش کی ہے لیکن اب تک کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔

Back to top button