پاکستان

ہائیکورٹ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو بڑی خوشخبری سنا دی

استعفیٰ تو کوئی بھی افسر دے سکتا ہے اور وہ متعلقہ اتھارٹی نے منظور بھی کیا' پھر کس قانون کے تحت ایسا کیا گیا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے ان کی پینشن روکنے کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پینشن روکے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر)کے نمائندے سے استفسار کیا قانون بتائیں، آپ کسی کی پینشن کیسے روک سکتے ہیں؟ اے جی پی آر کے نمائندے نے بتایا کہ 465 بی ون کے تحت بشیر میمن کی پینشن روکی گئی ہے، جس پر عدالت نے متعلقہ افسر کو قانون پڑھنے کی ہدایت کی۔ وکیل درخواست گزار حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ 16 دسمبر 2019 کو ریٹائرمنٹ تھی اور بشیر میمن نے 2 دسمبر2019 کو استعفیٰ دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام سے پوچھا کہ آج تک آپ نے کیا کبھی کسی اتنے سینئر افسر کی پینشن روکی ہے؟ جب آپ نے بشیر میمن کی پینشن کے تمام کاغذات مکمل کر لیے تو کس نے کہا روک دیں؟ عدالت نے کہا کہ استعفیٰ تو کوئی بھی افسر دے سکتا ہے اور وہ متعلقہ اتھارٹی نے منظور بھی کیا۔ عدالت نے کہا کہ 465 بی کے تحت تو بشیر میمن کی پنشن نہیں روکی جا سکتی تھی، تو پھر کس قانون کے تحت ایسا کیا گیا؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ جو رول آپ بتا رہے ہیں وہ بشیر میمن پر اپلائی ہی نہیں ہوتا۔ عدالت نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پیشن روکنے کا حکومتی اعلامیہ معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ اے جی پی آر بشیر میمن کی پینشن کا معاملہ دوبارہ دیکھے اور 10 روز میں رپورٹ پیش کرے۔

Back to top button