پاکستانفیچرڈ پوسٹ

حکومت اور اپوزیشن نے قبلہ درست نا کیا تو کیا ہوگا؟گلگت بلتستان پر حکومت کا کنٹرول، سی پیک کا مستقبل کیا ہوگا؟

اپوزیشن اپنی اے پی سی کے اعلامیے میں کہہ چکی ہے کہ حکومت سے کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا، اسی وجہ سے آرمی چیف نے میٹنگ کی

حکومت اور اپوزیشن کو بڑی وارننگ مل گئی ہے کہ اگر انہوں نے قبلہ درست نا کیا تو مسئلہ بن جائے گا اور گلگت بلتستان پر حکومت کا کنٹرول، سی پیک کا مستقبل کیا ہوگا؟

تجزیہ کار عمران یعقوب خان نے کہا کہ اپوزیشن اپنی اے پی سی کے اعلامیے میں کہہ چکی ہے کہ حکومت سے کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا، اسی وجہ سے آرمی چیف نے وہ میٹنگ کی جس میں وزیر اعظم شریک نہیں ہوئے، اپوزیشن اپنی سیاست کی خاطر گلگت کی عوام کوحقوق سے محروم رکھ رہی ہے، ماضی میں جس کی وفاقی حکومت ہو وہی کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت بناتی آئی ہیں اس لیے اپوزیشن کو یہ خدشہ ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہ آجائے، گلگت بلتستان سی پیک کا بنیادی حصہ ہے، لیکن گلگت بلتستان پر ہی حکومت کا کنٹرول نہ ہوا تو سی پیک کیسے کامیاب ہوگا، ویسے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہیئں اور انہیں ایک صوبہ ڈیکلیئر کیا جانا چاہیئے، مگر اس کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور اپوزیشن کی حمایت کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اور حکومت نے معاملات طے نہ کیے تو کوئی نہ کوئی تیسری قوت ضرور آئے گی جو کہ معاملات حل کرے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ انتظامی مقاصد کے لیے گلگت بلتستان کو صوبہ بنا سکتے ہیں تاہم تاحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بھارت کی سرزنش ہو رہی ہے۔

Back to top button