پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مسلم لیگ ن نے عمران خان حکومت گرانے کے لئے آخری کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کرلیا، بھرپور انداز میں فیصلہ کن تیاریاں مکمل کر لی گئیں

تینوں رہنماؤں میں گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطے ہوا جس میں زرداری اورفضل الرحمن سمیت غلام احمد بلور نے بھی نواز شریف سے رابطہ کیا

مسلم لیگ (ن)نے شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرا کا حتمی فیصلہ کرلیا جس کیلئے متحدہ اپوز یشن کا پلیٹ فارم استعمال کیا جائیگا جبکہ ایکشن پلان نواز شریف دیں گے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری اور جے یو آئی (ف)کے مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف سے اپنے تازہ رابطوں میں یقین دہانی کرائی ہے کہ اب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرا کرنا پڑا تو کوئی جماعت پیچھے نہیں ہٹے گی اور نواز شریف کے بیانیہ کو سوفیصد آگے لے کر چلا جائیگا۔ تینوں رہنماؤں میں گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطے ہوا جس میں آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سمیت اے این پی رہنما غلام احمد بلور نے بھی نواز شریف سے رابطہ کیا اور ان سے شہباز شریف کی گرفتاری پر اظہار یکجہتی کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے بیانیہ سے سو فیصد اتفاق کرتے ہیں۔اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ سابق جرنیلوں اور سابق ججوں کے اثاثہ جات، جائیدادوں اور بینک بیلنس کو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے لایا جائیگا اور احتجاجی تحریک کے دوران تمام تر رہنما اپنی پارٹیوں سے بالاتر ہوکر اس پلیٹ فارم سے خطاب اور اپنے بیانات بھی جاری کریں گے۔ دو سری طرف اپوزیشن کی طرف سے سخت بیانات سامنے آنے پر حکومت آئندہ چند روز میں بیک فٹ پر جائیگی اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال کی فوری گرفتاری کا معاملہ التوا کا شکار ہوجائے، جبکہ نیب کو مولانا فضل الرحمان پر بھی ہاتھ ہولا رکھنے کی ہدایات دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نرمی کا مقصد متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں اور انکے قائدین میں ایک دوسرے پر شکوک و شبہات پیدا کروانا ہے اگر حکومت اس پالیسی پر کامیاب ہوگی تو پھر اپوزیشن تربتر ہو جائیگی اور پھر کبھی حکومت کیخلاف تحریک چلانے کیلئے اپنے پاں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کل نواز شریف کے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے بڑی امیدیں وابستہ کی جارہی ہے، اگر مریم نواز، فضل الرحمان اور آصف زرداری گرفتار ہوگئے تو قیادت تھرڈ قیادت کریگی جس کی تیاری کرلی گئی ہے۔

Back to top button