پاکستان

جلیل شرقپوری اپنی پارٹی ن لیگ کے خلاف بول پڑے، بڑے انکشاف کر دیئے

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے 26 ستمبر کو پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دیا، آپ کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کی جاتی ہے

مسلم لیگ ن سے نکالے گئے رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف بولتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی بات سے اختلاف کیا ہے کوئی آئین تو نہیں توڑا۔

خیال رہے کہ ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری نے پارٹی قائد نواز شریف کی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)میں کی گئی تقریر پر تنقید کی تھی جس پر انہیں مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری اویس لغاری کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ جلیل شرقپوری کو شوکاز نوٹس کی کاپی حاصل کرلی ہے، شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے 26 ستمبر کو پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دیا، آپ کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کی جاتی ہے، اور ہدایت کی جاتی ہے کہ 7 یوم میں اپنا بیان جمع کرائیں۔

جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ پارٹی کی طرف سے مبہم نوٹس جاری کیا گیا ہے، وہ ایسے نوٹس کو نہیں مانتے، غلطی نہیں بتائی گئی، صرف نوٹس جاری کر دیا گیا، پارٹی کی طرف سے جاری نوٹس کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سب سے پہلے انہیں بتایا جائے کہ ان کی غلطی کیا ہے، نواز شریف کی بات سے اختلاف کیا ہیکوئی آئین نہیں توڑا، پارٹی کو پارٹی رہنے دیں، خاندانی جاگیر نہ بنائیں، پارٹی میں مختلف آراکے لوگ ہوتے ہیں ہرکسی کی رائے کا احترام ہونا چاہیے، مسلم لیگ ن ایک پارٹی ہے نہ کہ خاندانی لمیٹڈ کمپنی۔ علاوہ ازیں 3ماہ کے دوران پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر دو مرتبہ وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کرنے پر جلیل شرقپوری کے علاوہ دیگر 4 ن لیگی ارکان کی پارٹی رکنیت ختم کردی ہے اور صوبائی اسمبلی سے رکنیت ختم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنیکافیصلہ کیاگیا ہے۔ ان ارکان میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔

Back to top button