پاکستان

نوازشریف کی تقریر دکھانے پر پابندی، سینیٹ میں نئی بحث چھڑ گئی

فیصل جاوید بطور چیئرمین کمیٹی میں بیٹھیں تو اراکین کمیٹی کو بات کرنے کا موقع دیا کریں: پرویز رشید

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر نہ دکھانے پر کمیٹی کے چیئرمین فیصل جاوید خان اور مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر پرویز رشید میں بحث ہوئی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس کمیٹی چیئرمین فیصل جاوید خان کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی فیصل جاوید کے ٹوکنے پر جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر عطا الرحمان نے احتجاج کیا جس پر سینیٹر عطا الرحمان نے واک آؤٹ کا اعلان کیا، ان کے اعلان پر اپوزیشن اراکین بھی نشستوں سے اٹھ گئے۔ اس دوران پیپلزپارٹی کے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ اگرعطا الرحمان واک آؤٹ کریں گے تو میں بھی ان کے ساتھ واک آؤٹ کروں گا۔ اس پر ن لیگ کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ فیصل جاوید بطور چیئرمین کمیٹی میں بیٹھیں تو اراکین کمیٹی کو بات کرنے کا موقع دیا کریں۔

اس دوران پرویز رشید نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم بھی مفرور تھے، ان پر کیسز تھے، ان کی تقاریر پرکبھی پابندی نہیں لگی، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)کو بلاکر پوچھا جائیکہ نوازشریف کی تقریردکھانیپرکیوں پابندی لگائی گئی؟ اس پر چیئرمین کمیٹی فیصل جاوید خان نے کہا کہ پیمرا کو کمیٹی میں بلاکرمتن کے تناظرمیں بات ہوگی کہ پابندی کیوں لگائی گئی۔ جس پر پرویز رشید نے جواب دیا کہ ماضی میں عمران خان، طاہرالقادری اور دیگر لوگ کیا کچھ کہتے رہے، ان کی تقاریر کو نہیں روکا گیا، اب یہ قدغن نواز شریف کی تقریر پر کیوں؟

خیال رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کی جانب سے مسلسل دوسرے روز مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس سے خطاب کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)حرکت میں آگیا تھا۔ پیمرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا ایکٹ 2007 کی سیکشن 27 کے تحت اشتہاری اور مفرور افراد کے انٹرویوز اور خطاب نشر نہیں کیے جاسکتے۔

Back to top button