پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران خان حکومت مولانا فضل الرحمن سے شکست کھا جائے گی‘ سینئر صحافی حامد میر نے نئے اپوزیشن اتحاد کو تہلکہ خیز خبر سنا دی

ہم کئی معاملات پر مولانا صاحب سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے بیلٹ کی سیاست کا راستہ اختیار کیا

سینئر صحافی حامد میر نے نئے اپوزیشن کو تہلکہ خیز خبر سناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان حکومت جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے شکست کھا جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم کئی معاملات پر مولانا صاحب سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے بلٹ کے بجائے بیلٹ کی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ بیلٹ باکس میں ووٹوں کی چوری کا شکوہ انہوں نے 2018میں شروع نہیں کیا، وہ تو 1990سے یہی شکوہ کر رہے ہیں۔ مولانا پر بہت دباؤ ڈالا گیا کہ آپ بیلٹ کا راستہ چھوڑ دیں اور بلٹ کے ذریعہ پاکستان میں شریعت نافذ کریں، جب انہوں نے انکار کیا تو ان پر بار بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ 23اکتوبر 2014کو کوئٹہ میں ہونے والا خودکش حملہ اتنا خوفناک تھا کہ اس کے بعد کچھ لوگوں نے کہا کہ مولانا کو سیاست چھوڑ دینی چاہئے۔

مولانا سیاست چھوڑ دیتے تو یہ بلٹ والوں کی کامیابی کہلاتی لیکن انہوں نے بیلٹ کا راستہ نہیں چھوڑا۔ اسی بیلٹ کے راستے پر چلتے ہوئے وہ نواز شریف سے جاملے جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی زندگی میں اکتوبر بہت اہم رہا ہے۔ پچھلے سال ان کا آزادی مارچ اکتوبر میں شروع ہوا تو وہ تنہا تھے۔ اس سال پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ گیارہ اکتوبر کو کوئٹہ میں ہوگا تو وہ تنہا نہیں ہوں گے۔ حکومت نے نواز شریف کی تقاریر نشر کرنے پر علانیہ اور مولانا فضل الرحمن کی تقاریر نشر کرنیپر غیرعلانیہ پابندی لگا رکھی ہے۔ پابندیوں کے خلاف اس تحریک میں مولانا نے پی ڈی ایم کو قائم رکھا تو وہ آج کے ایوب خان کو شکست دیدیں گے بصورت دیگر جدوجہد تو جاری رہے گی۔

Back to top button