پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کروز میزائل کی ریورس انجینئرنگ کا معاملہ، بات لندن تک جا پہنچی‘ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سائنسدان ثمر مبارک آمنے سامنے

میاں نواز شریف نے کروز میزائل کی ریورس انجینئرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ سچ ہے اور میں ہر چیز کا عینی شاہد ہوں

کروز میزائل کی ریورس انجینئرنگ کا معاملہ، بات لندن تک جا پہنچی جس کے بعد سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سائنسدان ثمر مبارک آمنے سامنے آگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ پروفیشنل ہیں، پروفیشنل رہیں،سیاست نہ کریں۔ میاں نواز شریف نے کروز میزائل کی ریورس انجینئرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ سچ ہے اور میں ہر چیز کا عینی شاہد ہوں۔ ایک انٹرویو کے دورن سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر ثمر مبارک نے مجھے اس معاملے پر پوری بریفنگ دی ہوئی ہیں۔

وہ 1998 میں جنرل قدوائی کے ساتھ میرے پاس آئے۔ وہ 5سال میں میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتے تھے میں نے انہیں کہا آپ یہ کام دو سال میں کریں وہ میری یہ بات سن کر حیران رہ گئے کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید پاکستان پر پابندیاں ہیں اور میں انہیں کہوں گا کہ آپ میزائل ٹیکنالوجی 10سال میں حاصل کرلیں اور میں نے دونوں کو ہاتھوں پرویز مشرف کو پیغام بھجوایا کہ ہم ٹیکنالوجی 5سال میں نہیں بلکہ 2سال میں حاصل کریں گے،بطور حکومت یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ملکی دفاع کیلئے یہ کام کریں

دوسری جانب ڈاکٹر ثمر مبارک نے نواز شریف کی جانب سے کروز میزائل کی ریورس انجینئرنگ کر کے میزائل بنانے کے دعوں کو مسترد کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ کروز میزائل گرے اور ٹوٹے نہ۔ کروز میزائل کی ساخت انتہائی نازک ہوتی ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ ایک میزائل گرے اور اس کے ٹکڑوں کی ریورس انجینئرنگ کر کے پاکستان میزائل بنا لے۔ نواز شریف کا یہ دعوی نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔ ایٹمی سائنسدان ثمر مبارک مند نے کہا کہ کروز میزائل کے ملبے اور ٹکڑوں کی ریورس انجینئرنگ نہیں ہو سکتی۔

اس میزائل کا ملبہ کچرے کا ایک ڈھیر تھا۔ اور امریکہ نے بھی اس کا ملبہ واپس نہیں مانگ تھا۔ اگر امریکہ ملبہ مانگتا تو ہم دے دیتے کیونکہ وہ کسی کام کا نہیں تھا۔ نواز شریف نے قطعی طور پر جھوٹ بولا ہے کہ پاکستا ن نے کروز میزائل کی ریورس انجینئرنگ سے کوئی میزائل بنایا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ ان سے پوچھا جائے کہ تباہ شدہ ملبے سے کیا تحقیق کی جاسکتی ہے؟۔

Back to top button