پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ن لیگ کے قائد نوازشریف کو ایک بار پھر میڈیا کی پابندیوں سے آزاد کر دیا گیا‘ سابق وزیراعظم نے حکومت گرانے کی حکمت عملی بنالی، بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی تقاریر پر پابندی لگانے کی دائر درخواست مسترد کردی ہے

ن لیگ کے قائد نوازشریف کو ایک بار پھر میڈیا کی پابندیوں سے آزاد کر دیا گیا‘ سابق وزیراعظم نے حکومت گرانے کی حکمت عملی بنالی اور بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی تقاریر پر پابندی لگانے کی دائر درخواست مسترد کردی ہے، درخواست سماعت کے قابل نہیں ہے، اس طرح کی درخواستوں کیلئے متبادل فورم موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی لگانے کے لیے ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی۔جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل کے بعد فیصلہ سنایا ہے کہ نواز شریف کی تقاریر پر پابندی لگانے کی دائر درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ کیونکہ درخواست سماعت کے قابل نہیں ہے۔ عدالت نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا کہ اس طرح کی درخواستوں کیلئے متبادل فورم موجود ہے۔سیاسی مواد سے متعلق معاملات عدالتوں میں لانا عوامی مفاد میں نہیں۔چیف جسٹس اسلام ہائیکورٹ نے کہا کہ درخواستگزار مطمئن نہیں کر سکا کہ اس کے کون سے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ یاد رہے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)نے یکم اکتوبر کو اعلامیہ جاری کیا کہ اشتہاری اور مفرور افراد کے انٹرویوز اور خطاب ٹی وی پر نشر نہیں کیے جاسکتے۔ پیمرا اعلامیہ کے مطابق پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا ایکٹ 2007 کی سیکشن 27 کے تحت اشتہاری اور مفرور افراد کے انٹرویوز اور خطاب نشر نہیں کیے جاسکتے۔ پیمرا نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اشتہاری اور مفرور مجرمان کی تقاریر یا انٹرویوز پر تبصرہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پیمرا اعلامیہ کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

Back to top button