پاکستانفیچرڈ پوسٹ

میاں نوازشریف، عمران خان، پنجاب کا دلہا کون ہوگا‘ سہیل وڑائچ نے قومی سیاست میں مستقبل کی خبر سنا دی

پاکستان کے پہلے بڑے اپوزیشن لیڈر حسین شہید سہروردی تھے، وہ خود بنگالی تھے اور ان کے مخالف حزبِ اقتدار کراچی اور پنجاب و سرحد سے تھے

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں کی ٹاپ قیادت پنجاب سے ہے، ملک کی 70سالہ طویل تاریخ میں سیاسی طور پر پہلی بار کشمکش پنجاب بمقابلہ پنجاب ہے، اس لئے حالیہ سیاسی گھڑمس پیچیدہ، تہہ در تہہ اور پریشان کن ہے۔

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے بڑے اپوزیشن لیڈر حسین شہید سہروردی تھے، وہ خود بنگالی تھے اور ان کے مخالف حزبِ اقتدار کراچی اور پنجاب و سرحد سے تھے۔ ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح نے الیکشن لڑا، فاطمہ جناح کراچی سے جبکہ ایوب خان ہزارہ صوبہ سرحد سے تھے۔ ہزارہ اور پنجاب طویل عرصے سے ہم رنگ اور ہم آواز رہے ہیں اِس لئے ان کا سیاسی جھکاؤ بھی ایک سا ہوتا ہے۔ ایوب خان اور یحیی خان کے مدِمقابل شیخ مجیب کا تعلق بنگال اور ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا۔ جنرل ضیا الحق جالندھر کے پنجابی اور بینظیر بھٹو لاڑکانہ کی سندھی تھیں۔ صدیوں کی اِس سیاسی تقسیم میں بڑے صوبے پنجاب کے لوگوں کا دیگر صوبوں کو غدار کہنا ایک وطیرہ رہا ہے۔ ضیا الحق کے زمانے میں بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کو بھارت کے ایجنٹ اور غدار کہا جاتا رہا۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کا جوڑ پڑا تو اسلامی جمہوری اتحاد اور نواز شریف کیمپ نے محترمہ بینظیر بھٹو پر غداری کے فتوے لگائے کیونکہ وہ پنجاب سے نہیں سندھ سے تھیں۔ جنرل مشرف کا نواز شریف سے مقابلہ ہوا تو پہلی بار پنجاب لیڈر پر بھی غداری کے الزام لگائے۔ نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں ان کی اداروں کے ساتھ ٹھن گئی تو پنجاب سے طاقت حاصل کرنے والے اداروں نے پنجاب ہی سے ووٹ لینے والے نواز شریف کی وطن سے وفاداری مشکوک ہونے کا سوال کھڑا کر دیا۔ اِس وقت حزبِ اقتدار کے رہنما وزیراعظم عمران خان کا تعلق بھی پنجاب سے ہے اور دوسری طرف حزبِ مخالف کے رہنما نواز شریف کا تعلق بھی اِسی پنجاب سے ہے۔ اتفاق سے ریاستی ادارے کے 2ٹاپ ناموں کا تعلق بھی پنجاب سے ہے، گویا اس بار سیاسی لڑائی پنجاب بمقابلہ پنجاب ہے۔صوبہ پنجاب کی انتخابی تاریخ میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ شروع ہی سے یہاں حب الوطنی اور غداری کے نعرے بلند کئے گئے، بھارت کے حامی اور مخالفوں کے طعنے دیے گئے اور اینٹی انڈیا کے نام پر ووٹ مانگے گئے۔ قیامِ پاکستان کے فورا بعد ہی سے دیگر صوبوں کی ملک سے وفاداری پر سوال اٹھائے گئے۔ حسین سہروردی، شیخ مجیب، فاطمہ جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کو غدار کہا گیا تاہم پنجاب کی لیڈر شپ کے خلاف پہلے غداری کے فتوے صادر نہیں ہوتے تھے لیکن نواز شریف پر ان کے مخالفین نے یہ فتوی بھی لگایا ہے۔نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی تقریر اور بعد کے بیانات میں عمران خان اور ریاستی اداروں کے سربراہوں کے نام لیکر ان کے خلاف اعلان لڑائی کر دیا ہے جوابا عمران خان کے وزیروں اور مشیروں نے نواز شریف پر بھارت کے ایما پر یہ کام کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب بمقابلہ پنجاب اِس لڑائی کا انجام کیا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پنجابی ووٹ بینک کسی پنجابی کی حب الوطنی پر شک کرے گا یا اسے غدار قرار دے گا، یہ مشکل ہے کیونکہ نواز شریف کے خلاف ڈان لیکس اور دوسرے اسکینڈلز کے ذریعے اسی طرح کے الزام لگائے گئے مگر 2018کے الیکشن میں کم از کم سنٹرل پنجاب میں ان کا ووٹ بینک کم نہیں ہوا۔

نواز شریف کے خلاف حب الوطنی نہ ہونے کی اِس مہم کا نقصان انہیں شمالی پنجاب اور ہزارہ میں ہوا مگر باقی پنجاب میں اس کا کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ میری رائے میں اپوزیشن کے سنٹرل پنجاب میں جلسے اِس لئے اہمیت کے حامل ہوں گے کہ ان میں لوگوں کا جوش و خروش کتنا ہے اور یہ بات بھی دیکھنا ہو گی کہ کیا سنٹرل پنجاب کا عام آدمی نواز شریف یا اپوزیشن کی کال پر سڑکوں پر آئے گا یا نہیں؟ اسی سے اندازہ ہوگا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف مہم کی عوامی حمایت ملے گی یا نہیں؟اگر پنجاب میں احتجاجی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر کامیاب احتجاج اور تحریکیں جو مذہبی رنگ لئے ہوئے تھیں، وہ کامیاب ہوئیں۔ سیاسی اور معاشی حوالے سے پنجاب میں احتجاجی تحریکوں کا کامیاب ریکارڈ نہیں ہے۔ پاکستان قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک اور پھر نواز شریف کا عدلیہ بحالی کے حوالے سے لانگ مارچ ہی وہ تاریخی کامیابیاں ہیں جن کا سیاست میں حوالہ دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن نے اگر فورا یا ایک دم تحریک چلائی تو اِس کی کامیابی کا امکان کم ہے کیونکہ پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے پاس احتجاج کرنے والے کارکنوں کی بڑی کھیپ موجود نہیں ہے، البتہ استقبالی جلوسوں، سیاسی جلسوں کے بعد بتدریج احتجاج کی طرف جانے سے سیاسی کارکن آہستہ آہستہ آمادہ اور تیار ہونگے۔پنجاب میں اپوزیشن کا المیہ یہ ہے کہ اس کے ووٹر تو موجود ہیں لیکن احتجاجی کارکن موجود نہیں۔ جب بھی الیکشن ہوگا، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا مقابلہ ہوگا۔ ن لیگ کے ووٹر بزنس مڈل کلاس پس منظر کے حامل ہیں۔ وہ سڑکوں پر نکل کر جلسے جلوس کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں لیکن اگر اپوزیشن مسلم لیگ ن کو بتدریج احتجاج کی طرف لے گئی، تب ہی وہ اپنے کارکنوں کو احتجاج کیلئے آمادہ کر سکے گی۔ اپوزیشن کیلئے اہم ترین مرحلہ کارکنوں کیساتھ ساتھ عام لوگوں کو احتجاج کیلئے سڑکوں پر لانا ہے۔ عام لوگ یا تو اپنے گھر کا چولہا ٹھنڈاہونے یا حد سے زیادہ نفرت یا محبت کے جذبات کے نام پر باہر نکلتے ہیں۔ اپوزیشن کو اِس کیلئے سیاسی ٹمپریچر کو انتخابی موسم کی طرح انتہائی اوپر لے جانا ہوگا تاکہ وہ جذبات کو بھڑکا کر سیاسی تحریک کا ماحول پیدا کر سکے۔دوسری طرف حکومت اگر اپوزیشن کے احتجاج کو ناکام بنانا چاہتی ہے تو وہ صرف غدار کے فتوے لگانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عوام کو ریلیف دینے، مہنگائی کو کم کرنے اور معاشی و سماجی اصلاحات پر زور دے۔ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالے اور اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دے۔

Back to top button