پاکستان

ارطغرل بھی نوازشریف کا دوست اورعمران خان کا دشمن نکلا

نوٹ کرلیں ارطغرل آنےوالےدنوں میں عمران خان کا سب سےبڑا سیاسی دشمن اورنوازشریف کا محسن ثابت ہوگا

نامورکالم نگارجاوید چوہدری اپنےایک کالم میں لکھتےہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے گروپ میں شامل نوجوانوں نےبھی ارطغرل کی یونیفارم پہن لی اور یہ بھی تلواریں اورکلہاڑے اٹھا کرتصویریں بنوانےلگے جب کہ حکیم بابرنے ارطغرل کے مزارپرکھڑے ہوکرمعجون ارطغرل لانچ کردی۔ ہمارا اگلا ارطغرل گروپ ان شاء اللہ 18 نومبر کوترکی جائے گا لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں‘ ہمارا موضوع نواز شریف ہیں‘ مزار کے سامنے کھڑے ہو کر ہمارے گروپ کے ایک سینئر رکن نے دل چسپ تبصرہ کیا‘ ان کا کہنا تھا ’’ارطغرل آٹھ سو سال بعد میاں نواز شریف کا محسن ثابت ہو رہا ہے‘‘ گروپ کے باقی لوگ ہنس پڑے لیکن میں نے سنجیدگی سے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں‘‘ وہ مسکرائے‘ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر ارطغرل کے بھائی دندر بے کی علامتی قبر کے پاس لے گئے اور سرگوشی میں کہا ’’آپ میری بات لکھ لیں ارطغرل آنے والے دنوں میں میاں نواز شریف کا محسن اور عمران خان کا دشمن ثابت ہو گا‘‘ مجھے ان کا بالائی خانہ ذرا سا ڈھیلا محسوس ہوا۔کہاں ارطغرل اور کہاں نواز شریف اور کہاں عمران خان‘ کہانی جم نہیں رہی تھی‘ وہ تھوڑی دیر رکے اورپھربولے ’’سعودی عرب ترکی کو پسند نہیں کرتا‘ عثمانیوں نے 1517 میں حجاز پرقبضہ کر لیا تھا اور یہ چارسو سال حجازکوگورنرکے ذریعے چلاتے رہے‘ سعودی قبائل نے1924 میں ترکوں سے 22 سال لڑائی کے بعد آزادی حاصل کی اوراس جنگ میں ان کے ہزاروںلوگ جان سے گئے‘ سعودی اورترک آج تک اس لڑائی کو نہیں بھولے‘

طیب اردگان 2023 کے بعد دوبارہ خلافت عثمانیہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور سعودی عرب ترکی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا ہے‘ سعودی سمجھتے ہیں ترکی عثمانی بادشاہوں کے ڈرامے بنا کر اسلامی دنیا پر اثرانداز ہو رہا ہے اور ارطغرل ڈرامہ اس ترک ثقافتی یلغار کا حصہ ہے۔ہم سعودی عرب اور ترکی دونوں کے دوست ہیں‘ ارطغرل ڈرامہ سیریز 2014 میں ترکی میں نشر ہونا شروع ہوئی‘ طیب اردگان نے 2016 میں میاں نواز شریف کو اسے پاکستان میں ریلیز کرنے کا مشورہ دیا ‘ یہ تیار ہو گئے لیکن خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے انھیں روک دیا‘ ان کا خیال تھا عربوں نے ارطغرل کو بین کر دیا ہے‘ ہم نے اگر اس کی اجازت دی تو عرب ناراض ہو جائیں گے۔چنانچہ نواز شریف نے ترک حکومت کو ٹالنا شروع کر دیا اور یہ ٹالتے ٹالتے اپنی مدت پوری کر گئے‘ عمران خان کو سفارتی تجربہ نہیں تھا چنانچہ یہ آئے اور ارطغرل کو پی ٹی وی پر دکھانا شروع کر دیا اور اس نے چند ہفتوں میں پاکستان میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے‘ سعودی عرب ناراض ہو گیا مگرہم نے اس ناراضگی کی پرواہ نہیں کی‘ ارطغرل کی کھودی ہوئی خلیج اب آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور آپ آج نوٹ کرلیں ارطغرل آنےوالےدنوں میں عمران خان کا سب سےبڑا سیاسی دشمن اورنوازشریف کا محسن ثابت ہوگا‘‘

Back to top button