پاکستان

چار سدہ میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی معصوم زینب کے قاتل آزاد

 ننھی زینب زیادتی وقتل کیس میں پولیس نے آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تاہم مرکزی ملزمان اب تک گرفتار نہ ہوسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کیس میں 8 افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔پولیس حکام کے مطابق ایس پی درویش خان کی سربراہی میں پولیس ٹیم مختلف زاویوں سے تفتیش کررہی ہے اور جائےوقوعہ سےجمع شواہد پرتفتیش آگےبڑھارہے ہیں تاہم زینب کی ڈی این اے رپورٹ بھی تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔زینب کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس کی تحقیق سے مطمئن ہیں، آئی جی نے بھی یقین دلایا ہے کہ جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے جبکہ والد نے مجرم کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک خوف پیدا نہیں ہوگا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں واقعہ کی مذمتی قرارداد جمع کرا دی گئی ہے، قرار داد مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

Back to top button