پاکستان

نوازشریف پراسرائیلی شخصیات سےملاقاتوں کا الزام

معروف صحافی رانا مبشرنےمشاہد اللہ کےسامنےنوازشریف پربڑاالزام عائد کردیا

معروف صحافی رانا مبشرنےمشاہد اللہ کےسامنےنوازشریف پربڑاالزام عائد کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کےرہنما مشاہد اللہ کا کہنا ہےکہ نوازشریف کوصرف اس لیےوزرات عظمیٰ سےہٹایا گیا تھا کیونکہ وہ سی پیک کی حمایت کررہےتھےاورسی پیک کی مخالف قوتوں نےانہیں سی پیک کا سلسلہ شروع کرنےکی سزا دی۔ حالانکہ نوازشریف کا نام پانامہ لیکس میں نہیں تھا۔امریکہ اورلندن پلان والےسی پیک کےمخالف تھے۔ مشاہد اللہ نےمزید کہا کہ چائنا کےعلاوہ دنیا میں ہمارا کوئی دوست نہیں ہے۔ تو پروگرام میں موجود صحافی نےکہا کہ نوازشریف کی تولندن میں اسرائیلی سفیروں سےملاقاتیں ہورہی ہیں۔ مشاہد اللہ نےاس خبر کی تردید کی جس کا جواب بھی صحافی نے دیدیا۔

رانا مبشرنےکہا کہ اس متعلق توخبریں بھی چھپتی رہی ہیں کہ پاکستان آنےسےقبل اورگرفتاری ہونےسےقبل نوازشریف لندن میں اسرائیلی سفیروں سےملاقات کرتےرہےہیں۔ جس پرمشاہد اللہ نےکہا کہ نوازشریف توبہت بڑا لیڈرہے۔اورابھی مختلف سفیران سےملاقات کرنےکےلیے آتے ہیں۔ مشاہد اللہ نےکہا کہ نوازشریف کوصرف سی پیک کےحوالےسےسزا دی گئی ہے۔ سی پیک کےمخالف سی پیک کوروکنےکی کوشش کررہےہیں اورانہوں نےسی پیک کےلیےفنڈ بھی روک لیےہیں۔آپ نےدیکھا نہیں کہ اخترمینگل نےاس متعلق کیا کہا ہے۔ مشاہد اللہ نےکہا کہ اس متعلق اخترمینگل کا بیان دیکھ لیں اوراب توسندھ سےبھی اس متعلق شوراٹھ رہا ہے۔ خیال رہےایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کےسربراہاخترمینگل نےبلوچستان میں سی پیک کےتحت ترقیاتی منصوبوں کےآغازکا مطالبہ کیا ہےاورکہا ہےکہ دونوں اطراف سے مسئلہ کشمیرکےحوالےسےایک دوسرے کودھمکیاں دینا درست نہیں۔

Back to top button