پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مریم نواز بمقابلہ عمران خان، فاتح سپہ سالار کون ہوگا؟سہیل وڑائچ نے قومی سیاست کا سب سے بڑا دھماکہ کر دیا

شریف فیملی نے پچھلے چند ماہ میں اپنی جو اسٹرٹیجی بنا رکھی ہے اس کے مطابق وہ آسانی سے گرفتاری نہیں دیتے

سینئر صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ نے قومی سیاست کا سب سے بڑا دھماکہ کرتے ہوئے مریم نواز بمقابلہ عمران خان، فاتح سپہ سالار کون ہوگا کے بارے میں بڑی پیشگوئی کر دی ہے۔

سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ شریف فیملی نے پچھلے چند ماہ میں اپنی جو اسٹرٹیجی بنا رکھی ہے اس کے مطابق وہ آسانی سے گرفتاری نہیں دیتے۔ مریم نواز بھی جاتی امرا سے باہر تب نکلیں گی جب کارکن انہیں لینے کے لئے گھر سے باہر آ جائیں گے تاکہ وہ باہر نکلیں تو کوئی انہیں گرفتار نہ کر سکے۔حکومت اپنا مورچہ جاتی امرا لگائے گی اور کوشش کرے گی کہ کارکن وہاں پہنچ کر جمع نہ ہو سکیں۔ معاملہ جو بھی ہوگا حکومت اور اپوزیشن کی آنکھ مچولی بس شروع ہونے کو ہے۔ اس لڑائی میں کون سرخرو ہوگا یہ چند دنوں میں سامنے آ جائے گا۔قومی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو سب ادارے اور حکومت ایک صفحے پر ہیں، بظاہر حکومت کو کوئی فوری خطرہ نہیں اور بقول وزرا کے 2023تک ان کی حکومت ایسے ہی چلتی رہے گی۔ دوسری طرف نواز شریف کا احتجاجی بیانیہ دو طرح کا ردِعمل پیدا کر سکتا ہے۔پہلا ردِعمل تو یہ ہے کہ ادارے اور حکومت سب مل کر نواز شریف اور ن لیگ کا تیاپانچہ کردیں، فارورڈ بلاک بنا دیں، مزید مقدمات، مزید گرفتاریاں اور مزید دباؤ ڈالیں مگر اس آپشن پر پہلے ہی اتنا عمل ہو چکا ہے کہ نواز شریف اور ن لیگ دیوار کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ انہیں مزید پریشرائز کر کے کوئی بڑا سیاسی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔نواز شریف کے احتجاجی بیانیے کا توڑ کرنے کے لئے دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کے لئے ادارے یا حکومت میں سے کوئی ایک سافٹ کارنر پیدا کرے تاکہ ن لیگ کو بھی سیاسی نظام میں کوئی امید نظر آئے اور انہیں یہ آس لگے کہ آج نہیں تو کل وہ بھی اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ اگر وہ مکمل طور پر مایوس کر دیے گئے تو پھر انہیں یہ بندوبست قابلِ قبول نہیں ہو گا اور پھر وہ حکومت اور اداروں، دونوں کے خلاف لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے۔

Back to top button