پاکستانفیچرڈ پوسٹ

گوجرانوالہ کا جلسہ، عمران خان کے جلسے کا ریکارڈ توڑے گا یا نہیں؟دنگ کر دینے والا سیاسی تجزیہ سامنے آگیا، سیاسی گہما گہمی عروج پر

حکومت کمزور دکھائی دیگی مگر جلسہ جلوس گزرنے کے بعد حکومت ببانگِ دہل کہہ سکے گی کہ انہوں نے جمہوری انداز میں کھلی چھٹی دی

مریم نواز کا گوجرانوالہ کا جلسہ عمران خان کے جلسے کا ریکارڈ توڑے گا یا نہیں اس حوالے سے دنگ کر دینے والا سیاسی تجزیہ سامنے آگیا جس کے بعد سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

جلسے جلوسوں سے حکومتیں گرتی نہیں مگر ہل ضرور جاتی ہیں۔ اگر تو حکومت عالی حوصلگی اور برداشت کا مظاہرہ کرے، جلسہ جلوس ہونے دے تو اسے شارٹ ٹرم نقصان ہوگا، حکومت کمزور دکھائی دے گی مگر جلسہ جلوس گزرنے کے بعد حکومت ببانگِ دہل کہہ سکے گی کہ انہوں نے جمہوری انداز میں کھلی چھٹی دی اور جلسہ جلوس ہونے دیا۔دوسرا راستہ جلسے جلوس کو روکنے کا ہے۔ جلسے سے پہلے کارکنوں کی گرفتاریاں کی جائیں، پہلے جلسے جلوس کے بارے میں خوف و ہراس پھیلا کر اسے محدود کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر اس کے باوجود اپوزیشن باہر نکلے تو لیڈر شپ کو بھی گرفتار کر لیا جائے تاکہ ہر طرف دھاک بیٹھ جائے کہ حکومت مضبوط ہے اور اپوزیشن حکومت کو ڈینٹ نہیں ڈال سکی لیکن سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرنے سے جو گڑبڑ اور سیاسی انتشار پیدا ہو گا اس کے اثرات لانگ ٹرم ہوں گے۔ حکومت کے جمہوری رویوں پر بھی سوال اٹھنے لگیں گے۔اندازہ یہ ہے کہ حکومت، اپوزیشن کو فری ہینڈ نہیں دے گی اور آئندہ چند دنوں میں کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہو جائیں گی۔ گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک کارنر میٹنگ پر لاٹھی چارج کیا تو وفاقی حکومت نے پھر کہا، ان کا ایسا کوئی حکم نہیں ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ اگر عوام زیادہ تعداد میں نکل آئے تو لاہور اور گوجرانوالہ کے جلوس ایک ہو جائیں گے اور انہیں سنبھالنا پولیس کیلئے مشکل ہو جائے گا۔ پولیس کو پہلے بھی تھپکی اور شاباشی نہیں مل رہی، اِسی لئے ان کا حوصلہ ٹوٹا ہوا لگتا ہے۔اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسہ کا سب سے بڑا اہم واقعہ مریم نواز کی شرکت ہوگا۔

Back to top button