پاکستان

عمران خان کی تقریریں،اپوزیشن تحریک زورپکڑگئی

کپتان اپوزیشن کے خلاف جتنی زیادہ تقریریں کریں گے، اتنی ہی اس میں جان پڑتی جائے گی

کپتان اپوزیشن کے خلاف جتنی زیادہ تقریریں کریں گے، اتنی ہی اس میں جان پڑتی جائے گی۔ یہ بڑا سیدھا سا فارمولا ہے، جسے اقتدار میں رہنے والا ہمیشہ بھول جاتا ہے۔اب بھلا کپتان کو گڑے مردے اکھاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کہنے کا کیا یہ مناسب وقت تھا کہ نوازشریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے۔ نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ باتیں تو وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کئی بار کہہ چکے ہیں۔ کیا وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں یہ غیر مصدقہ بات کرنی چاہیے تھی کہ نوازشریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ اس کے بارے میں سوچا بھی جائے۔

کیا دنیا کو اس سے کوئی مثبت پیغام ملے گا؟ کیا پاک فوج کا انتظامی ڈھانچہ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول اتنا ڈھیلا ڈھالا ہے کہ کوئی بھی اسے فوج سے پولیس بنا سکتا ہے۔ یہ صرف سیاسی الزام تراشی کا سامان تھا، جسے وزیراعظم کی حیثیت سے ہرگز نہیں دہرایا جا سکتا۔ پھر ان کا نوازشریف سے خمینی کا موازنہ کرنا بھی سیاسی بیانیہ ہو سکتا ہے، ایک وزیراعظم کا بیانیہ ہرگز مناسب نہیں۔ اول تو کسی پارٹی عہدیدار کی بات کو لے کر اس طرح موازنہ کرنا دانشمندانہ بات نہیں، کیونکہ یہ خیال بھی رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ایرانی عوام خمینی سے کس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔

Back to top button