پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ، مزید کون کون گھر جائے گا؟سہیل وڑائچ کی پیشگوئی نے ملکی سیاست میں تہلکہ مچا دیا

عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم سے معاون خصوصی اطلاعات کا عہدہ واپس لینے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے پیشگوئی کرتے ہوئے ملکی سیاست میں تہلکہ مچادیا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ نے استعفیٰ دے دیا ہے اور اب مزید وزراء بھی گھر جائیں گے۔

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی برائیاطلاعات کیاضافی عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔اپنے ایک ٹوئیٹ میں عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے معاون خصوصی اطلاعات کا عہدہ واپس لینے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی،اس سلسلے میں سینئر صحافی اور کالم نویس سہیل وڑائچ کا پرانا کالم ایک بارپھر وائرل ہوگیا جس میں انہوں نے لکھا کہ شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ میں بھی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں اشتراک کی بجائے افتراق نظر آیا۔روزنامہ جنگ میں اگست کے آخری عشرے میں سہیل وڑائچ نے لکھا تھا کہ تاج و تخت کے دعویدار اب بھی ہاتھیوں کی طرح ایک دوسرے سے دست آزما ہیں اور حکمران اوپر بیٹھے نہ صرف یہ لڑائیاں کرواتے ہیں بلکہ باقاعدہ ان سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے وزیر اور مشیر تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں جدید اور قدیم مذہب اور سائنس، آگے اور پیچھے کے درمیان لڑائی ہو تو کابینہ میں زیادہ تر وزرا فواد جہلمی اور شیریں مزاری کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں تاہم باقی لڑائیوں میں یہ تقسیم اور گروپنگ اور ہی طرح سے ہوتی ہے۔وزیر اعظم نے ہر محکمے کو دو یا 3لوگوں کے حوالے کر رکھا ہے جو آپس میں ہر وقت محاذ آرائی اور مقابلہ بازی کا شکار رہتے ہیں۔ محکمہ اطلاعات و نشریات تو شروع ہی سے دو عملی بلکہ کبھی کبھی سہ عملی کا شکار رہا ہے۔ آج کل شبلی فراز انچارج وزیر ہیں جبکہ جنرل عاصم باجوہ مشیر برائے وزیراعظم ہیں حالیہ دنوں میں اے پی این ایس کی اعلی سطحی میٹنگ میں ان دو اہم ترین لوگوں میں رابطے و اشتراک کی بجائے افتراق نظر آیا۔ اس سے پہلے اسی محکمہ میں فواد چودھری کے مقابلے میں کئی مشیر متحرک رہتے تھے اور لڑائیاں ہوتی تھیں فردوس عاشق اعوان کو بھی ایسی ہی لڑائیوں نے ٹکنے نہ دیا۔جرنیلوں اور سویلینز دونوں کے پسندیدہ اسد بن جنرل عمر کو بھی معرکہ درپیش ہے۔

اس وقت مشیر پٹرولیم ندیم بابر اور وزیر واٹر اینڈ پاور عمر بن گوہر بن جنرل ایوب کے درمیان بھی سب ٹھیک نہیں چل رہا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ دیکھیں اس لڑائی میں کون اپنا عہدہ بچا سکے گا اور کس کی چھٹی ہو جائے گی؟سب سے سمارٹ، سب سے ذہین، سب سے لائق، سب سے زیادہ با اصول وزیر جناب شاہ محمود قریشی نہ صرف سب کے پسندیدہ ہیں بلکہ وہ خود اپنے بھی بہت ہی پسندیدہ ہیں مگر بیان بازی کی گرما گرمی میں وہ خود بھی بھنور میں پھنسے ہوئے لگتے ہیں۔ سعودی عرب سے حالات معمول پر آئیں گے تو تبھی وہ بھی معمول کے کام جاری رکھ سکیں گے۔ہاتھیوں کی ایک اور لڑائی وفاقی کابینہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے درمیان ہے۔ وزرا کی فائلیں اور ان کے بہت سے کام پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کی سکروٹنی اور پڑتال سے گزرتے ہیں۔ اس لئے کابینہ کے طاقتور وزیروں اسد عمر اور خسرو بختیار کو چھوڑ کر اکثر وزرا شکایت کناں رہتے ہیں کہ ان کے کام اور وزارت کی سمریاں رکی ہوئی ہیں۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک ویسیہی بہت زیادہ گڈ بکس میں نہیں ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کی واحد تعریف جو دو سال میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم نے کی ، وہ پشاور بی آر ٹی کے افتتاح کے موقع پر تھی۔ وزیر داخلہ کے بہترین انتظام و انصرام پر بھی انہیں داد کم ہی ملتی ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ہاتھیوں کی کئی لڑائیاں جاری ہیں بزدار بمقابلہ نیب، وزیر اعلی سیکرٹریٹ بمقابلہ وزرا اور وزرا بمقابلہ وزرا۔ ابھی پچھلے دنوں ایک مشیر نے ایوان وزیر اعلی میں وہ شور مچایا کہ الامان و الحفیظ۔ بہت سی فائلیں وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں فیصلوں کی منتظر ہیں لیکن یہ مشکل مرحلہ طے نہیں ہو پا رہا اور یوں اقتدار کے ہاتھی آپس کی لڑائیوں میں مفاد عامہ کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔مغل ہوں یا آج کے جمہوری بادشاہ وہ ہاتھیوں کی لڑائی یا وزرا کی لڑائی میں مزہ اس لئے لیتے ہیں کہ لڑائی میں وہ فریق نہیں منصف اور جج ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو لڑواتے ہیں اس سے فریقین کی غلطیاں اور خامیاں سامنے آتی ہیں جبکہ بادشاہ غیر متنازعہ رہتے ہیں مگر یاد رکھیں جہاں سب کچھ تبدیل ہو گیا یہ انداز اور خوئے حکمرانی بھی بدلنا ہو گی وگرنہ بدمست ہاتھی یا ناراض وزیر بادشاہ کے مد مقابل بھی آ سکتے ہیں۔

Back to top button