پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عاصم سلیم باجوہ کی چیئرمین سی پیک کے عہدہ سے بھی چھٹی‘ قانونی ماہرین نے واضح کر دیا: سب سے بڑی بریکنگ نیوز

اتھارٹیاں پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں اور اتھارٹیز کے قیام کیلئے انتظامی ہدایت نامے جاری نہیں کیے جاتے

قانونی ماہرین نے لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی طرف سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدہ سے استعفیٰ کے بعد ان کے چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدہ پر بھی سوال اٹھا دیا۔ قانون ماہرین کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کا قیام اور چیئرمین کی تعیناتی ایک آرڈیننس کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آرڈیننس ختم ہو چکا ہے اب کوئی بھی شہری یا اپوزیشن جماعتیں اگر اس معاملہ کو عدالت تک لے گئیں تو عاصم سلیم باجوہ کو اس عہدہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ دوسری جانب ملک کے بیشتر سینئر صحافیوں نے بھی عاصم سلیم باجوہ کے استعفیٰ کی منظوری اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدہ پر ان کے برقراررہنے پر اعتراضا ت اٹھا دیئے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی (ایس اے پی ایم)برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن اب وہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین بھی نہیں رہے کیونکہ سی پیک اتھارٹی کو جس آرڈیننس کے تحت قانونی تحفظ حاصل تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے، اگرچہ انتظامی لحاظ سے باجوہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی ہیں لیکن قانونا یہ ادارہ بغیر کسی قانونی مینڈیٹ کے کام کر رہا ہے،اتھارٹیاں پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں اور اتھارٹیز کے قیام کیلئے انتظامی ہدایت نامے جاری نہیں کیے جاتے۔

Back to top button