پاکستانفیچرڈ پوسٹ

لگتا ہے اب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنے کے موڈ میں نہیں‘ صحافیوں نے ن لیگی تاحیات قائد کو تبدیل شدہ سیاستدان قرار دے دیا

اس تقریر سے آگ لگ چکی یہ اب بجھ بھی جائے تو دھواں اور اس کا اثر دیر تک رہے گا: صحافیوں کاردعمل

ملک بھر کے صحافیوں نے ن لیگی تاحیات قائد کو تبدیل شدہ سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ اب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

پی ڈیم ایم کے جلسے کے بعد ہفتہ کو صبح سے کئی ہیش ٹیگز اور کئی نام ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ان ٹرینڈز میں گوجرانوالہ جلسے کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ایک طرف نواز شریف کی تقریر کے ردعمل میں ٹوئٹر پر پاکستانی فوج کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز اور اس کے دفاع میں بھی لوگ سرگرم ہیں۔، مشرف زیدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اے پی سی کے مقابلے میں یہ انداز مزید سخت ہوگیا ہے۔ وہ اس انداز کی بات کر رہے ہیں جس میں نواز شریف پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ پر اپنی حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔یہ ایسے شخص کا انداز نہیں جو ڈیل کرنا چاہتا ہو۔صحافی نازیہ میمن لکھتی ہیں کہ اس تقریر سے آگ لگ چکی یہ اب بجھ بھی جائے تو دھواں اور اس کا اثر دیر تک رہے گا۔کالم نگار محمد تقی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی موجودہ آرمی چیف، جو ڈکٹیٹر نہ ہو، پر سرعام ایسے الزامات نہیں لگائے گئے۔صحافی حامد میر کے مطابق نواز شریف صاحب کی تقریر تو اچھی تھی۔ انھوں نے باجوہ صاحب پر بہت سے الزامات لگائے، اگر نواز شریف پر پابندی نہ ہوتی تو ان سے یہ ضرور پوچھتا کہ جب آپ کی پارٹی نے پچھلے سال باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کی تو آپ کو یہ الزامات کیوں یاد نہ آئے؟ سوال تو بنتا ہے لیکن پوچھیں کیسے؟

Back to top button