پاکستانفیچرڈ پوسٹ

اپوزیشن کا گوجوانوالہ میں تاریخی جلسہ، اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ میں تصادم کا آغاز‘ نوازشریف کا بیانیہ کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہو چکا، غریدہ فاروق، عاصمہ شیرازی

نواز شریف نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو صرف سوچا ہی جا سکتا تھا‘ صورت حال بدل نہیں رہی، بدل گئی ہے

اپوزیشن کا گوجرانوالہ میں تاریخی جلسہ کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ میں تصادم کا آغاز ہوگیا چکا جبکہ نوازشریف کا بیانیہ کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہو چکا ہے۔

بی بی سی کی معروف صحافی غریدہ فاروقی اور عاصمہ شیرازی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سنیچر کی صبح کو ہیش ٹیگز اور کئی نام ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ان ٹرینڈز میں گوجرانوالہ جلسے کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ایک طرف نواز شریف کی تقریر کے ردعمل میں ٹوئٹر پر پاکستانی فوج کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز اور اس کے دفاع میں بھی لوگ سرگرم ہیں۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف اور (ن)لیگ ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔صحافی نے لکھا کہ نواز شریف کی گوجرانوالہ جلسہ میں تقریر براہ راست تصادم کا آغاز ہے۔ تقریر میں مخاطب افراد اور ادارے اس پر بھی خاموش رہے تو آئندہ ہر ایرا غیرا یہی زبان استعمال کرے گا اور کسی کو روکنا ناممکن ہوگا۔ ہدف اب عمران خان نہیں فوجی قیادت ہے۔کالم نگار اور اینکر عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو صرف سوچا ہی جا سکتا تھا۔ صورت حال بدل نہیں رہی، بدل گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں بیانیہ کمزور نہیں مضبوط ہو سکتا ہے۔غریدہ فاروقی نے لوگوں سے دریافت کیا کہ نواز شریف کی آج گوجرانوالہ کی تقریر، جو میڈیا پر تو نہ دکھائی گئی، لیکن جلسے میں موجود لوگوں نے سنی، ریکارڈ کی، برزبان آگے پھیلائی جائے گی، سوشل میڈیا پر چلائی گئی، کیا اِس تقریر کا بوجھ ن لیگ اب برداشت کر پائے گی؟

Back to top button