پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران خان تا حیات حکمران رہیں گےیہ ہرگزممکن نہیں

عمران خان تا حیات حکمران رہیں گےیہ ہرگزممکن نہیں،کچھ لواورکچھ دوکےاصول پرعمل کرنا ہوگا، صحافی عارف نظامی کا تجزیہ

عمران خان تا حیات حکمران رہیں گےیہ ہرگزممکن نہیں،کچھ لواورکچھ دوکےاصول پرعمل کرنا ہوگا، صحافی عارف نظامی کا تجزیہ، اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی حکومت ہٹاؤ تحریک زورو شور سے شروع ہو گئی ہے۔ گوجرانوالہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے جہاں سے اس کے پاس قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 12 نشستیں ہیں، اسی بنا پر تحریک کے آغاز کے لیے شہ زوروں کے اس شہر کا انتخاب کیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے دو دن پہلے ہی یہ بیان دے دیا تھا کہ اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے حسب توقع یہ بھی کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا وقت آنے پر سب چور اکٹھے ہو جائیں گے۔ اگرچہ ایسا ہونا فطری عمل تھا کہ حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن اکٹھی ہو جائے گی،

ان معروضی حالات میں ایسی پیشگوئی کرنے کیلئے جوتشی ہونا ضروری نہیں ۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ خان صاحب سیاست میں بھی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت پر قطعاً تیار نہیں۔ وہ اپنے حریفوں کو کلین بولڈ کرنے پر بضد ہیں لیکن سیاست کا کھیل، کرکٹ کے کھیل سے قطعاً مختلف ہوتا ہے، اس میں سسٹم کو چلانے کے لیے کچھ لو کچھ دو کے تحت کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر خان صاحب کا خیال ہے کہ اپوزیشن کا صفایا کر کے وہ بلاشرکت غیرے تاحیات حکمران بن جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ وہ اگر ایسا چاہیں بھی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے علاوہ بھی کئی پاور سنٹرز ہیں جو ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان سیاسی طور پرایسا ملک بن چکا ہے جہاں کوئی بھی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائی اور اگر کرے بھی تو گھسیٹ گھسیٹ کر پانچ سال گزارتی ہے۔

Back to top button