پاکستانفیچرڈ پوسٹ

سابق آرمی چیف راحیل شریف نےنوازشریف کوکونسےتین آپشنزدئیے

سابق آرمی چیف راحیل شریف نےنوازشریف کوکونسےتین آپشنزدئیے،سنئیرصحافی انصارعباسی کےتہلکہ خیزانکشافات نےطوفان برپا کردیا

سابق آرمی چیف راحیل شریف نےنوازشریف کوکونسےتین آپشنزدئیے،سنئیرصحافی انصارعباسی کےتہلکہ خیزانکشافات نےطوفان برپا کردیا سابق وزیراعظم نوازشریف کے 2014ء میں دئیےگئےپی ٹی آئی کے دھرنےسےمتعلق کیےگئےانکشافات اوراسٹیبلشمنٹ پرلگائےگئے الزامات کے بعد سیاسی میدان میں ایک بھونچال آ گیا ہے ۔اسی حوالےسےسینئر صحافی انصارعباسی کا کہنا ہےکہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی نواز شریف کے تمام تر الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

ن لیگ کے کچھ اہم وزراء اُس ملاقات میں موجود تھے جس میں ظہیرالاسلام نے ان کے لیے ’باعث ہزیمت‘ صورتحال پیدا ہونے پر مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی۔ باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ ظہرالاسلام کووزیراعظم نےبتایا کہ ان کے کچھ جونئیرافسران نےایسا کیا ہوگا لیکن ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں۔ جو لوگ اس معاملےمیں شامل تھے ان سے پس منظرہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف کو مبینہ طورپرظہرالاسلام کی طرف سے پیغام پہنچایا تھا کہ وہ مستفعی ہوجائیں۔

لیکن پیغام رساں نے وزیراعظم کوبتایا کہ آئی ایس آئی کے بریگیڈئیرنےظہرالاسلام کا پیغام ان تک پہنچایا کہ یہ پیغامنوازشریف تک پہنچا دیا جائے۔جب اُس پیغام رساں سے موقف جاننےکی کوشش کی توانہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تاہم یہ تصدیق ہوئی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارسے رات دیرسے ہونے والی ملاقات اگست 2014ء کے تیسرے ہفتے میں ہوئی تھی۔

جس میں انہوں نےکہا کہ آئی ایس آئی کےایک بریگیڈئیرنےانہیں کہا کہ وزیراعظم کےپاس جاؤاوراس سےاستعفیٰ مانگو۔(یہ بریگیڈئیراب ریٹائرہوچکے ہیں) ۔اُن کا کہنا ہےکہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی نےکبھی اُن کوایسا پیغام نوازشریف تک پہنچانےکےلیےنہیں کہا۔انصارعباسی مزید لکھتےہیں کہ اُن دنوں میں جنرل راحیل نےوزیراعظم کومشورہ دیا کہ اُس وقت کےوزیراعلیٰ شہبازشریف سےاستفعیٰ لےلیں۔ساتھ ہی 2013ٰ کےالیکشن میں دھاندلی پرجوڈیشل کمیشن بنائیں۔اورطاہرالقادری کی زیرقیادت جماعت پی اے ٹی کےتحت ماڈل ٹاؤن کیس پرایف آئی آر درج کرنےکا حکم دیں۔ نوازشریف جوڈیشل کمیشن اورایف آئی آردرج کرانےپرآمادہ ہوئےتاہم شہبازشریف کےاستعفےکا مشورہ نظراندازکردیا۔

Back to top button