پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کیپٹن صفدر کی گرفتاری، نوازشریف کا بیانیہ مزید مضبوط ہوگیا’ اپوزیشن کو دی جانیوالی دھمکیاں کام دکھانے لگیں، حامد میر کا تجزیہ

اب کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ 19 اکتوبر کی صبح کیپٹن صفدر کو کراچی میں گرفتار کرنے کا حکم کس نے دیا تھا

سینئر صحافی و کالم نگار حامد میر نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے نوازشریف کا بیانیہ مزید مضبوط ہوگیا جبکہ اپوزیشن کو دی جانیوالی دھمکیاں کام دکھانے لگی ہیں۔

حامد میر نے مزید کہا کہ اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن کو دی جانے والی دھمکی کے ہولناک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اب کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ 19 اکتوبر کی صبح کیپٹن صفدر کو کراچی میں گرفتار کرنے کا حکم کس نے دیا تھا اور اِس حکم پر عملدرآمد کے بھونڈے انداز کا سب سے زیادہ فائدہ لندن میں بیٹھے ایک شخص نواز شریف کو ہوا جس کی تقریروں پر پابندی لگا کر حکمران اپنے آپ کو بڑا طاقتور سمجھنے لگے تھے۔ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی کہانی کے پیچھے کئی کہانیاں ہیں۔

کچھ منظر عام پر آ چکی ہیں، کچھ ابھی نہیں آئیں لیکن سب کہانیوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکیاں دیتا نظر آ رہا ہے۔ اِنہی دھمکیوں کے باعث 20اکتوبر کی شام کراچی میں ایک بھونچال آیا جب آئی جی سندھ سمیت پولیس کے درجنوں بڑے چھوٹے افسران نے چھٹی کی درخواستیں دے ڈالیں اور سندھ میں پولیس کی غیراعلانیہ ہڑتال کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اِس صورتحال کو سنبھالنے کے لئے پہلے پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید سے مطالبہ کیا کہ وہ اِس واقعہ کی تحقیقات کریں کہ رات کے دو بجے کس نے آئی جی سندھ کے گھر کا گھیرائو کیا اور صبح چار بجے انہیں کہاں لے جایا گیا؟

Back to top button