پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مریم نواز کی گرفتاری عمران حکومت کے لئے کس قدر خطرناک ہوگی‘ نامور صحافی نے حقائق کھول کر رکھ دیئے، قومی سیاست میں نیا موڑ

مریم نواز کو گرفتارکرنے والے کسی اقدام پہ واویلا ایسا مچے گاکہ حکومت کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی گرفتاری عمران حکومت کے لئے کس قدر خطرناک ہوگی اس کے متعلق نامور صحافی نے حقائق کھول کر سب کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔

نامور صحافی ایاز امیر کا کہنا ہے کہ صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ مریم نواز کو دوبارہ پابندِ سلاسل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ایسے کسی اقدام پہ واویلا ایسا مچے گاکہ حکومت کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ کیپٹن(ر)صفدر کی گرفتاری نے جو سماں پیدا کیا وہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ پوری زندگی میں کیپٹن (ر)صفدر نے وہ شہرت نہ پائی ہوگی جو اس حادثے کے بعد ان کے نصیب میں آئی۔ یہ بھی عمران خان حکومت اور اِ ن کے معاونین کاکارنامہ ہے کہ انہوں نے اس واقعے پہ باقاعدہ تماشا کھڑا کردیا۔ مریم نواز کو وہ کیسے پکڑ میں لائیں گے؟ کہنے کا مطلب یہ کہ جو ریاستی بندوبست پچھلے الیکشنوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا وہ ناکام ہونے کا تاثر دے رہا ہے۔ کام کچھ چل نہیں رہا، چیزیں ہو نہیں رہیں۔ معاشی صورتحال اور مہنگائی نے جو تباہی پھیلا رکھی ہے وہ ہمارے سامنے ہے لیکن معیشت سے ہٹ کے سیاسی محاذ بھی موجودہ لوگوں سے ہینڈل نہیں ہو پا رہا۔ پرانے سیاستدانوں نے ختم کیا ہونا تھا انہوں نے مزید جان پکڑلی ہے۔ ایک سال پہلے کون یہ کہہ سکتا تھاکہ مولانا فضل الرحمن سیاسی افق پہ اس طور سے نمودار ہونگے۔ نون لیگ اور پی پی پی نے بیچارگی کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اب دونوں جماعتیں نئے انداز میں سامنے آرہی ہیں اور ان کی نئی پود بھی سامنے آچکی ہے۔ بلاول زرداری ایک میچور سیاست دان لگنے لگا ہے اور مریم نواز نے اپنا سکہ جما لیا ہے کہ والد کے بعد نون لیگ کی وہی لیڈر ہوں گی۔ یہ سب عمران خان اور ان کے معاونین کی مہربانیوں کی وجہ سے ہے۔ ان کی سیاسی اور معاشی حکمت عملی اتنی غیر مستحکم اور ناپائیدار نہ ہوتی تو اس تھوڑے سے عرصے میں ایسی تبدیلیاں کہاں سے آنا تھیں۔ لیکن سب سے بڑی بات تو معاونینِ بندوبست کے حوالے سے ہے۔ وہ جو سمجھے بیٹھے تھے کہ ہر چیز ان کے ہاتھ میں ہے ان کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ لوگ بات کرتے تھے تو دبے انداز سے۔ نوازشریف تو پچھلا سارا حساب چکا رہے ہیں اور جیسے اوپر عرض کیا احتیاط کے دامن سے انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ ہماری ریاست میں جو سب سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں وہ ساتھ ہی ساتھ سب سے حساس ہوتے ہیں۔ ذرا سی تنقید برداشت نہیں کر سکتے۔ نوازشریف جو کررہے ہیں وہ تنقید تھوڑی ہے، وہ تو کہیں اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ بڑے عہدوں پہ جب کوئی موضوع سخن بن جائے تو یوں سمجھیے آدھا رعب و دبدبہ چلا جاتا ہے۔یہی کچھ یہاں شروع ہو چکا ہے اور یہ جلد ختم ہونے والا نہیں۔ جب تک حالات بدلیں گے نہیں میاں صاحب نے واپس نہیں آنا۔ مطلب یہ کہ اپنے آسودہ مسکن میں بیٹھ کے پریشانیاں بکھیرتے رہیں گے۔

Back to top button