پاکستانفیچرڈ پوسٹ

دسمبر کا پہلا ہفتہ عمران خان پر بھاری پڑے گا یا نہیں‘ سابق صدر آصف زرداری کے کردار کی اہمیت میں اضافہ ہونے لگا

سارے معاملے میں آصف علی زرداری کی سیاسی قوت اور فیصلے طاقت کے توازن کا فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالتے ہیں

دسمبر کا پہلا ہفتہ وزیراعظم عمران خان پر بھاری پڑے گا یا نہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے کردار کی اہمیت میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔

اب پھر نومبر شروع ہوچکا ہے اور وہی پرانا سکرپٹ ہے لیکن اس بار سزا یافتہ خاندان کو میدان میں اتارا گیا ہے جس کی اپنی کوئی سیاسی قانونی اور اخلاقی حیثیت باقی نہیں ہے۔ اس خاندان اور اس کے پیچھے چھپے طاقتور عناصر کو بھی اندازہ ہے کہ جب تک سپہ سالار اور وزیر اعظم میں اتفاق و اتحاد ہے ممکن نہیں کہ ان کی دال گل سکے۔ ایک بار پھر صورتحال نومبر 2007 والی ہے۔ دباو صرف اور صرف اس لیے ہے کہ(ق) لیگ کی اصل قوت(جنرل مشرف) کی طرح پی ٹی آئی کی اصل قوت کو بھی پسپا کیا جائے۔ محترمہ بھی باہر بیٹھ کر این آر او لے رہی تھیں اور آج نواز شریف بھی لندن میں بیٹھے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں لیکن صورتحال میں فرق ہے۔ ملک میں آج نہ تو آمرکی حکومت ہے اور نہ ہی پی سی او کے تحت عدالتیں کام کررہی ہیں۔اس کا نقصان نواز شریف کو ہورہا ہے اور آخری اطلاع تک اداروں میں مکمل اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے لیکن نومبر کا آخری ہفتہ اور دسمبر کا پہلا ہفتہ بہت بھاری ہونے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ سب کچھ بلکہ چالیس برسوں کی سیاسی اور مالی جمع پونجی داو پر لگی ہوئی ہے۔ ان حالات میں گلگت بلتستان کے انتخابات بہت اہم ہوچکے ہیں۔ اس سارے معاملے میں آصف علی زرداری کی سیاسی قوت اور فیصلے طاقت کے توازن کا فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ موجودہ پارلیمانی اور جمہوری نظام کو تقویت دینے کی راہیں پانچویں صوبے گلگت بلتستان سے نمودار ہوسکتی ہیں بشرطیکہ عمران خان کچھ دیر کے لیے ایک کایاں سیاستدان بن جائیں کیونکہ کچھ وزن تو انہیں بھی اٹھانا پڑے گا۔

Back to top button